پاکستانی شدت پسند گروہ جماعت الاحرار کے سینئر کمانڈر سربکف مہمند نے ویڈیو جاری کرتے ہوئے حالیہ افواہوں کی سختی سے تردید کی ہے جو ان کی گرفتاری یا زخمی ہونے کے بارے میں زیرِ گردش تھی۔
ذرائع کے مطابق یہ ویڈیو پیغام خیبر پختونخوا کے ضلع مہمند میں ریکارڈ کیا گیا ہے، جس میں سربکف مہمند نے اپنے جنگجوؤں کو ہدایات دی ہیں کہ وہ عام شہریوں کے ساتھ احترام سے پیش آئیں، ہراساں کرنے یا جبری وصولیوں سے گریز کریں اور افغان جنگجوؤں کو اپنی صفوں میں داخل نہ ہونے دیں۔
تعلقات اور مؤقف
سربکف مہمند نے اپنے بیان میں پاکستانی طالبان کے افغان طالبان کے ساتھ تاریخی تعاون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے افغانستان میں 47 ممالک کے اتحاد کے خلاف “کندھے سے کندھا ملا کر” جنگ لڑی اور اسلامی امارت کے قیام میں سہولت فراہم کی۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ پاکستانی فوج افغان طالبان کے حکمرانی کے نظام کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اور خبردار کیا کہ پاکستانی شدت پسند اس کی اجازت نہیں دیں گے۔
𝗝𝗮𝗺𝗮𝗮𝘁 𝘂𝗹 𝗔𝗵𝗿𝗮𝗿 𝗖𝗼𝗺𝗺𝗮𝗻𝗱𝗲𝗿 𝗦𝗮𝗿𝗯𝗮𝗸𝗮𝗳 𝗠𝗼𝗵𝗺𝗮𝗻𝗱 𝗔𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝘀 𝗶𝗻 𝗩𝗶𝗱𝗲𝗼, 𝗗𝗲𝗻𝗶𝗲𝘀 𝗔𝗿𝗿𝗲𝘀𝘁 𝗥𝘂𝗺𝗼𝗿𝘀
— Afghan Analyst (@AfghanAnalyst2) January 9, 2026
A senior commander of the Pakistani militant group Jamaat ul Ahrar, Sarbakaf Mohmand, has appeared in a new video allegedly… pic.twitter.com/MUNAOv1j7x
تنظیمی حیثیت
جماعت الاحرار تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی گروہ کے طور پر جانی جاتی ہے لیکن یہ بعض اوقات افغان طالبان قیادت سے مختلف مؤقف بھی اختیار کرتی ہے اور اپنی خودمختاری برقرار رکھتی ہے۔
دیکھیں: طالبان کی جانب سے عوامی مظاہروں پر تشدد کے مبینہ واقعات؛ اے ایف ایف کی شدید مذمت