اسلام آباد کے رہائشی علاقے سیکٹر جی سیون ٹو میں ایک خاندان کی خوشی کا موقع اچانک المیے میں بدل گیا، جہاں شادی کی تقریب کے دوران گیس سلنڈر کے دھماکے سے دولہا اور دلہن سمیت آٹھ افراد جاں بحق ہو گئے۔ متعدد دیگر زخمی حالت میں اسپتال پہنچائے گئے ہیں، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔
حادثے کے وقت شادی گھر میں ولیمے کی تقریب جاری تھی اور قریبی رشتہ داروں کی کثیر تعداد موجود تھی۔ دھماکے کی زد میں آنے والے تین مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے، جبکہ ایک چوتھا گھر بھی شدید متاثر ہوا۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، جہاں تمام زخمیوں کو آرتھوپیڈک، برن سنٹر اور نیورولوجی وارڈز میں زیر علاج رکھا گیا ہے۔ طبی ذرائع کے مطابق زخمیوں میں سے تین کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
ابتدائی تحقیقات میں دھماکے کی وجہ گیس لیکج کو قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق سرد موسم میں ہیٹر کے مسلسل استعمال اور گیس کے دباؤ میں اتار چڑھاؤ نے لیکج کو جنم دیا ہوگا۔ چیف کمشنر اسلام آباد کے دفتر سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ متاثرہ خاندانوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس المناک واقعے پر گہرے رنج و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ہلاکتوں کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کی۔ انہوں نے وزیر صحت اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو بہترین ممکن علاج فراہم کیا جائے اور واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کی جائیں۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور متاثرین کے لواحقین سے ملاقات کی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ زخمیوں کو ہر قسم کی طبی سہولیات مہیا کی جائیں گی اور اس سانحے کی ذمہ داری میں کسی بھی غفلت یا لاپرواہی کے مرتکب افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
اطلاعات کے مطابق گیس لوڈشیڈنگ کے بعد جب دباؤ بحال ہوا، تو پرانی پائپ لائن میں رساؤ ہوا، جو تنگ گلی اور ناکافی ہوا بازی کی وجہ سے جمع ہو کر دھماکے کی شکل اختیار کر گیا۔
پولیس، ریسکیو 1122 اور انتظامیہ کے اہلکاروں نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کیں۔ تمام متاثرین کی شناخت مکمل کر لی گئی ہے اور اب آگے کی کارروائی لواحقین سے مشاورت کے بعد طے کی جائے گی۔
دیکھیں: پاک بحریہ کی شمالی بحیرۂ عرب میں بڑی مشق، جدید میزائل اور بغیر پائلٹ نظاموں کا کامیاب مظاہرہ