امارتِ اسلامیہ افغانستان کے سفیر گل حسن حسن نے جمعرات کو ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو سفارتی اسناد پیش کیں، جس کے ذریعے ان کی سفارتی حیثیت باضابطہ طور پر تسلیم کرلی گئی ہے۔ مذکورہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب چند ماہ قبل روس نے افغانستان میں طالبان انتظامیہ کو رسمی طور پر تسلیم کیا تھا۔
سرکاری خبر رساں ادارے ٹاس کے مطابق مذکورہ تقریب کرملن کے الیکزینڈر ہال میں منعقد ہوئی، جس میں متعدد غیر ملکی سفارتکار بھی موجود تھے۔ تقریب میں یورپ، ایشیا، افریقہ، لاطینی امریکہ اور مشرقِ وسطیٰ کے 34 نئے تعینات سفیروں نے بھی اپنی اسناد پیش کیں۔
روس دنیا کا واحد ملک ہے جس نے اپریل 2024 میں طالبان کے اقتدار کو رسمی طور پر تسلیم کیا، تقریباً چار سال بعد جب امریکی قیادت میں غیر ملکی افواج کے انخلاء کے بعد افغان طالبان دوبارہ اقتدار میں آئے۔
زیادہ تر ممالک نے کابل میں اپنی سفارت خانوں کو تکنیکی سطح پر برقرار رکھا، مگر انسانی حقوق، خواتین اور لڑکیوں پر پابندیوں، اور جامع سیاسی عمل کی غیر موجودگی کے سبب طالبان انتظامیہ کو رسمی طور پر تسلیم کرنے سے گریز کیا ہے۔