روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ حالیہ برسوں میں روس اور افغانستان کے مابین تعلقات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس میں گزشتہ سال افغانستان کو باضابطہ تسلیم کرنا اہم سبب ہے۔
صدر پیوٹن نے یہ بات کریملن میں ایک تقریب کے دوران کہی، جہاں انہوں نے متعدد ممالک کے سفیر بشمول امارتِ اسلامیہ افغانستان کے نمائندے کے سفارتی اسناد وصول کیں۔
صدر پیوٹن نے افغانستان کی شنگھائی تعاون تنظیم میں نگران رکنیت کی جانب بھی اشارہ کیا اور کہا کہ روس خواہش رکھتا ہے کہ افغانستان ایک متحد، خودمختار اور پرامن ریاست کے طور پر ترقی کرے، جو جنگ، دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ سے پاک ہو۔
انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ روس افغانستان میں امن و استحکام کے لیے خطے کے ممالک کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا اور انسانی ترقی، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں کردار ادا کرے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ روس کا یہ اقدام خطے میں سیاسی و اقتصادی تعلقات کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ افغانستان میں بڑھتے ہوئے دہشت گردانہ خطرات سے نمٹنے کے لیے بھی اہم ہے۔