افغانستان میں خواتین کی کھیلوں میں شمولیت پر عائد سخت پابندیوں کے تحت ایک اور واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں 22 سالہ خاتون تائیکوانڈو انسٹرکٹر خدیجہ احمدزادہ کو طالبان کی اخلاقی پولیس نے گرفتار کر کے جیل منتقل کر دیا ہے۔ خدیجہ پر الزام ہے کہ وہ لڑکیوں کو خفیہ طور پر تائیکوانڈو کی تربیت فراہم کر رہی تھیں، جسے موجودہ احکامات کے تحت جرم قرار دیا گیا ہے۔
رُخشاناہ میڈیا کے مطابق یہ گرفتاری مغربی شہر ہرات میں عمل میں آئی، جہاں خدیجہ احمدزادہ ایک رہائشی عمارت کی پارکنگ میں لڑکیوں کو تائیکوانڈو کی تربیت دے رہی تھیں۔ چھاپے کے دوران طالبات موقع سے فرار ہو گئیں، تاہم خدیجہ احمدزادہ، ان کے والد اور مکان کے مالک کو حراست میں لے کر ہرات کی مرکزی جیل منتقل کر دیا گیا۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تربیتی سرگرمی خواتین پر عائد کھیلوں کی پابندیوں سے بچنے کی ایک کوشش تھی، جسے طالبان حکام نے خلافِ ضابطہ قرار دیا۔ گرفتاری کے بعد خدیجہ احمدزادہ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی بند کر دیے گئے ہیں، جس سے ان کی سرگرمیوں پر مکمل قدغن لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ اگست 2021 کے بعد طالبان حکومت نے خواتین کی تعلیم، نقل و حرکت، ملازمت اور عوامی سرگرمیوں پر 150 سے زائد پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ خواتین کی کھیلوں میں شرکت پر عملی طور پر مکمل پابندی نافذ ہے، جس کے باعث اس نوعیت کی خفیہ تربیت کو بعض حلقے خاموش مزاحمت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ خواتین کوچز اور کھلاڑیوں کے خلاف اس طرح کی کارروائیاں نہ صرف کھیلوں کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہیں بلکہ افغان خواتین کو معاشرتی اور ذہنی طور پر مزید تنہائی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ دوسری جانب طالبان حکام اس مؤقف پر قائم ہیں کہ خواتین کی ایسی سرگرمیاں ان کے نافذ کردہ ضابطوں کے خلاف ہیں۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں نے خدیجہ احمدزادہ کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والی تنظیموں پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان میں خواتین کے حقوق کیلئے جدوجہد کریں۔
دیکھیں: امریکہ کا 75 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگرنٹ ویزا پروسیسنگ عارضی طور پر معطل کرنے کا فیصلہ