تاجکستان کی سکیورٹی فورسز نے افغان سرحد کے قریب چار دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق کاروائی اس وقت کی گئی جب وہ غیرقانونی طور پر سرحد عبور کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق ان افراد نے ہتھیار ڈالنے سے بھی انکار کر دیا تھا، جس کے بعد مذکورہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
مذکورہ واقعہ تاجکستان کے جنوبی علاقے خطلون میں پیش آیا، جو افغانستان سے ملحقہ ایک حساس سرحدی علاقہ ہے۔ یہ علاقہ حالیہ عرصے میں دہشت گردی کی وارداتوں اور سلامتی کے خدشات کی وجہ سے زیرِ نظر رہا ہے۔
تاجک حکام کے مطابق گزشتہ نومبر سے اب تک سرحدی علاقوں میں کم از کم پانچ مہلک واقعات رونما ہو چکے ہیں، جن میں 16 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان میں سرحدی محافظ، چینی شہری اور مبینہ دہشت گرد شامل ہیں۔
تاجکستان کے صدر امام علی رحمٰن افغانستان کی عبوری حکومت کے ناقد رہے ہیں۔ انھوں نے بارہا کابل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغانستان میں رہنے والے تاجک نسلی گروہوں کے حقوق کا احترام کرے۔ تاہم سیاسی اختلافات کے باوجود تاجکستان نے افغانستان کو بجلی کی فراہمی اور سرحدی تجارت جیسے معاملات میں تعاون جاری رکھا ہوا ہے۔
خطے میں سلامتی کے خدشات اس وقت اور بڑھ گئے جب 2024 کے آخر میں افغانستان میں مقیم چینی شہریوں پر حملے ہوئے۔ تاجک حکام خاص طور پر جماعت انصاراللہ اور داعش خراسان جیسے گروہوں سے خطرے کو محسوس کر رہے ہیں، جو افغانستان کو اڈہ بنا کر تاجکستان اور دیگر وسط ایشیائی ممالک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان میں اس وقت 20 سے زائد بین الاقوامی اور علاقائی دہشت گرد تنظیمیں فعال ہیں، جن میں القاعدہ، داعش خراسان اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) شامل ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بعض دہشت گرد طالبان کی مقامی سکیورٹی فورسز میں شامل ہو کر اپنی جنگی مہارتیں استعمال کر رہے ہیں۔
تاجکستان نے طالبان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سرحدی علاقوں میں سرگرم دہشت گرد گروہوں اور منشیات اسمگلروں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے، تاکہ خطے میں مزید عدم استحکام نہ پھیلے۔