افغان طالبان کی سرپرستی میں پاکستان دشمن دہشت گرد تنظیموں کی بھرتیوں کا عمل شروع کردیا گیا ہے ۔ افغانستان کے صوبہ کنڑ کے ضلع شیلٹن ضلع کے گاؤں بیلی میں بڑی تعداد میں لوگوں نے جماعت الاحرار میں شمولیت کی بیعت کی۔ بیعت کرنے والے گروپ لیڈروں میں مولوی ذبیح اللہ( افغان مہاجر ) ، مولوی ابرار(پاکستانی) ، حاجی گل (افغان مہاجر) ، مفتی الیاس( پاکستانی) ، مولوی حامد باچا( افغان مہاجر ) اور صدام عرف ارشد( پاکستانی ) شامل ہیں ۔ یہ لوگ وہ ہیں ، جو 2016میں ٹی ٹی پی سے الگ ہوکر افغان طالبان کا حصہ بنے ، بعد میں عسکریت چھوڑ کر کنڑ میں ذاتی امور میںمصروف ہوگئے ۔
ان میں بعض وہ ہیں جو وہاں نام نہاد مہاجرت کی زندگی گزار رہے ہیں اور پاکستانی شہریت رکھتےہیں ، جبکہ ایک بڑی تعداد ان کی بھی ہے ، جو افغان طالبان کا حصہ رہے ہیں ، ان کی فیملیز کو حالیہ دنوں میں پاکستان سے نکالا گیا ہے ۔ افغان طالبان کی جا نب سے کنہڑ ، پکتیا اور پکتیکا میں یہ پالیسی اختیار کی گئی ہے کہ پاکستان سے فرار ہو کر جانے والے وہ لوگ جو دہشت گردی سے منسلک نہیں ، انہیں اور پاکستان سے جانےو الے افغان مہاجرین کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ سرکاری سہولیات کے لیئے لازم ہے کہ خاندان کا ایک بندہ کسی دہشت گر دتنظیم کا حصہ بنے ۔
سورس کے مطابق کنہڑ میں جماعۃ الاحرار ، خوست ننگر ہار اور پکتیکا میں گل بہادر کو بھرتی کے لئے سہولت کاری کی جا رہی ہے ۔کابل سے سورس کے مطابق یہ بھرتیاں ایک منظم حکمت عملی کا حصہ ہیں ، جس کی نگرانی جی ڈی آئی کا بدنام زمانہ پاکستان دشمن کردار ڈاکٹر بشیر کر رہا ہے ، جو پنج شیر میں تعینات ہے ، لیکن عملی طور پر پاکستان دشمن دہشت گردوں کی سہولت کاری اس کی ذمہ داری ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے سرحدی صوبوں میں جون 2025میں پاکستان کو دھوکہ دینے کی خاطر بظاہر ٹی ٹی پی کو روکنے کے لئے قائم کی گئی ٹاسک فورس جس کا سربراہ سابق گورنر خوست مولوی قاسم خالد کو بنایا گیا ہے ، وہ بھی ان بھرتیوں میں تعاون کر رہا ہے ۔ سورس کے مطابق منصوبہ بندی کے تحت پاکستان میں دہشت گردی میں افغان شہریوں کو پیچھے رکھتے ہوئے نئے بھرتی ہونےو الے پاکستانی شہریوں اور افغان مہاجرین کو فرنٹ پر رکھا جائے گا ، تاکہ یہ دعویٰ کیا جا سکے کہ طالبان نے افغان شہریوں کو دہشت گردی سے روک لیا ہے ۔
ایک جانب افغان طالبان افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو نے کے دعوے کر رہے ہیں تو دوسری جانب دہشت گرد تنظیموں کی بھرتیاں جاری ہیں ۔ افغان طالبان دہشت گردی ترک کرکے افغانستان میں رہنے والے پاکستانی شہریوں اور پاکستان سے واپس جانے والے افغان مہاجرین میں سے طالبان کے تربیت یافتہ مگر بر طرف کئے گئے لوگوںں کو ٹی ٹی پی جماعت الاحرار اور گل بہادر گروپ میں بھرتی ہونے پر مجبور کر رہے ہیں ۔
دیکھیں: خواتین کیلئے افغان سرزمین بدستور تنگ؛ خواتین کی تائیکوانڈو کوچ کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا