امریکہ کے بعد اب یورپی یونین کا ایک اہم رکن ملک پولینڈ بھی بھارت اور روس کے دفاعی تعلقات پر واضح تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پولینڈ کے وزیرِ خارجہ رادوسلاو سِکورسکی نے نئی دہلی میں گفتگو کے دوران کہا کہ ہمیں بھی بھارت کی روس کے ساتھ فوجی مشقوں کی فکر ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب روس۔ یوکرین جنگ کے تناظر میں مغربی ممالک روس کے ساتھ فوجی تعاون کے بارے میں شدید تحفظات رکھتے ہیں۔
بھارتی میڈیا کا سوال
دلچسپ بات یہ ہے کہ سِکورسکی کا یہ براہ راست بیان دراصل بھارت۔ پاکستان تعلقات کے ایک سوال کے جواب میں سامنے آیا۔ اطلاعات کے مطابق ایک نجی نشست میں بھارتی صحافیوں نے وزیر خارجہ سے ان کے اکتوبر 2025 میں پاکستان کے دورے اور اس خطے میں سفارتی توازن کے بارے میں پوچھا۔ سِکورسکی نے دو طرفہ تعلقات پر بات چیت سے ہٹ کر توجہ فوری طور پر ایک وسیع تر اور بین الاقوامی طور پر اہم موضوع، یعنی بھارت۔ روس فوجی اشتراک پر مرکوز کر دی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ پولینڈ کی ترجیحات اور اس مسئلے کی عالمی سطح پر حساسیت واضح ہوتی ہے۔
بھارت کے لیے چیلنج
پولینڈ کا یہ مؤقف محض ایک ملک کی آواز نہیں، بلکہ یورپی یونین اور نیٹو میں پائی جانے والی بڑھتی ہوئی بے چینی کی عکاسی کرتا ہے۔ بھارت، جو اپنے دفاعی حصول کے لیے تاریخی طور پر روس پر انحصار کرتا آیا ہے، اب امریکہ، فرانس اور اسرائیل جیسے نئے اتحادیوں کے ساتھ بھی گہرے دفاعی معاہدے کر رہا ہے۔ اس دوہری حکمت عملی کے درمیان توازن قائم رکھنا بھارت کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک بڑا امتحان بن گیا ہے۔ خصوصاً اس وقت جب اسے ایک طرف روس کے ساتھ پرانے تعلقات برقرار رکھنے ہیں اور دوسری طرف مغربی ممالک کے ساتھ نئی شراکت داریوں کو پروان چڑھانا ہے۔