پاکستان میں خواتین کی بااختیاری کا سفر ایک نئے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں معاشی ترقی، سیاسی شمولیت اور سماجی تبدیلی کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی جا رہی ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی یہ کاوشیں اس وقت مزید اہمیت اختیار کر گئی ہیں جب ملک 2026 میں خواتین سے متعلق نویں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) وزارتی کانفرنس کی میزبانی کرے گا۔
معاشی انقلاب کا نیا باب
پاکستان کی معیشت میں خواتین کے کردار کو تبدیل کرنے والے اقدامات نے قابل ذکر نتائج دکھائے ہیں۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ذریعے 9 ملین سے زائد خواتین کو مالی معاونت فراہم کی گئی ہے، جس سے نہ صرف غربت میں کمی آئی ہے بلکہ خواتین کی گھریلو فیصلہ سازی میں شراکت داری میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق، جب خواتین کے ہاتھ میں آمدنی ہوتی ہے تو وہ 90 فیصد رقم خاندان کی تعلیم اور صحت پر خرچ کرتی ہیں، جو قومی انسانی سرمائے میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔
کشف فاؤنڈیشن سمیت مختلف اداروں نے 496 ملین ڈالر سے زائد کے مائیکرو قرضے خواتین کو فراہم کیے ہیں۔ یہ قرضے صرف مالی مدد نہیں بلکہ عزتِ نفس کی بحالی کا ذریعہ بنے ہیں۔ 82 فیصد خواتین قرضہ یافتگان نے دوسرا کاروبار شروع کیا اور اوسطاً ہر خاتون نے 2.3 افراد کو روزگار فراہم کیا۔
تعلیم و ہنر: جدت کی بنیاد
پاکستان نے خواتین کی تعلیم اور ہنر مندی پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے۔ ‘روشنی باجی’ پروگرام کے تحت 5,000 سے زائد خواتین کو الیکٹریشن کی تربیت دی گئی ہے، جبکہ ‘ویمن آن وہیلز’ منصوبے نے 2,000 خواتین کی نقل و حمل کی مشکلات کو حل کیا ہے۔ ڈیجیٹل خواندگی کے پروگراموں کے تحت 50,000 سے زائد خواتین کو ٹیکنالوجی کی تربیت دی گئی ہے۔
سیاسی شمولیت: جمہوریت کی مضبوطی
پاکستان میں خواتین کی سیاسی نمائندگی نے تمام ترقی پذیر ممالک کے لیے مثال قائم کی ہے۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں 33 فیصد مخصوص نشستوں کے نظام نے خواتین کو سیاسی عمل میں مؤثر طور پر شامل کیا ہے۔ مقامی حکومتوں میں تو یہ شرح 40 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جس نے عوامی پالیسیوں پر خواتین کے اثر و رسوخ کو نمایاں طور پر بڑھایا ہے۔
ٹیکنالوجی کے میدان میں کامیابیاں
پاکستانی خواتین نے ٹیکنالوجی کے شعبے میں غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ 500 سے زائد خواتین نے ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپس شروع کیے ہیں، جبکہ فری لانسنگ کے ذریعے 150 ملین ڈالر سے زائد زرِمبادلہ حاصل کیا گیا ہے۔ آئی ٹی پروفیشنلز میں خواتین کا تناسب 35 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔
زراعت اور روایتی شعبوں میں جدت
زراعت کے شعبے میں 40 فیصد خواتین کسان جدید ٹیکنالوجی اپنا رہی ہیں، جبکہ ہنر مند دستکاری کے ذریعے سالانہ 500 ملین ڈالر سے زائد کی برآمدات حاصل کی جا رہی ہیں۔ 60,000 خواتین کو جدید زرعی تکنیک کی تربیت دی گئی ہے۔
او آئی سی کانفرنس
پاکستان کی 2026 میں ہونے والی او آئی سی وزارتی کانفرنس کی میزبانی ملک کے تجربات کو عالمی سطح پر پیش کرنے کا ایک بڑا موقع ہے۔ اس کانفرنس میں 500 بین الاقوامی مندوبین شرکت کریں گے اور پاکستانی خواتین کاروباری افراد کے 100 اسٹالز لگائے جائیں گے۔
مستقبل کے وعدے
پاکستان نے خواتین کی افرادی قوت میں شرکت کو 21 فیصد سے بڑھا کر 35 فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس سے ملک کی جی ڈی پی میں 60 فیصد تک اضافہ ممکن ہے۔ 10 ملین مزید خواتین کو مالیاتی نظام میں شامل کرنے اور تعلیمی اداروں میں لڑکیوں کے داخلے میں 60 فیصد اضافے کے ہدف پر کام جاری ہے۔
چیلنجز اور مواقع
اگرچہ ڈیجیٹل خلا، دیہی علاقوں میں کم شرح خواندگی اور ثقافتی رکاوٹیں موجود ہیں، لیکن حکومتی اقدامات اور عوامی بیداری ان چیلنجز سے نمٹنے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔