پشاور میں ہنگو آپریشن کے دوران شہید ہونے والے 2 افسران سمیت پاک فوج کے 6 اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔

September 21, 2026

ضلع کرم میں سکیورٹی آپریشن کے دوران افغان نژاد عسکریت پسند ڈاکٹر عبیداللہ سعید بدری ساتھیوں سمیت مارا گیا، جس سے سرحد پار دہشت گردی کے روابط کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔

September 21, 2026

ہنگو میں سکیورٹی فورسز اور خوارج کے درمیان فائرنگ میں 8 دہشت گرد ہلاک ہوگئے، 2 افسران سمیت 6 اہلکار شہید ہوگئے۔

September 20, 2026

حکومت نے 27 ستمبر کے احتجاج کے تناظر میں پُرتشدد کارروائیوں اور سڑکوں کی بندش کے خلاف سخت قانونی اقدامات نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

September 20, 2026

ترک وزیر خارجہ خاقان فیدان نے کہا ہے کہ مکہ معاہدے کے تحت ترکیہ پاکستان کے ساتھ مل کر سعودی عرب کی ممکنہ عسکری ضروریات کا جائزہ لے گا۔

September 20, 2026

اسلام آباد کے داخلی راستوں پر امن برقرار رکھنے کے لیے انتظامیہ نے پُرتشدد مظاہرین اور قانون شکن عناصر کے خلاف سخت پالیسی نافذ کر دی ہے۔

September 20, 2026

افغانستان میں پھنسے تقریباً 200 پاکستانی طلبہ کی وطن واپسی کی اپیل، سفارتخانے کی تصدیق کے منتظر

طلبہ کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ کئی ہفتوں سے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، رہائش، خوراک اور سیکیورٹی سے متعلق مسائل بڑھتے جا رہے ہیں، جبکہ تعلیمی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ پاکستانی سفارتخانے فوری طور پر افغان حکام کے ساتھ رابطہ کر کے تصدیقی عمل مکمل کریں تاکہ ان کی واپسی ممکن بنائی جا سکے۔
افغانستان میں پھنسے تقریباً 200 پاکستانی طلبہ کی وطن واپسی کی اپیل، سفارتخانے کی تصدیق کے منتظر

اس حوالے سے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایک پریس کانفرنس میں دفتر خارجہ کو ہدایت کی تھی کہ افغانستان میں موجود پاکستانی طلبہ کی مدد کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

January 24, 2026

افغانستان میں زیر تعلیم یا مقیم تقریباً 200 پاکستانی طلبہ وطن واپسی کے خواہاں ہیں، تاہم وہ تاحال پاکستانی سفارتی مشنز کی تصدیق کے منتظر ہیں جس کے باعث ان کی واپسی میں تاخیر کا سامنا ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ افغان حکام نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کے سفارتی مشنز کی جانب سے طلبہ کی فہرست کی باضابطہ تصدیق کے بغیر انہیں واپس جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

طلبہ کے مطابق اگر سفارتی تصدیق نہ ہوئی تو انہیں پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی بہتری تک انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔ طلبہ نے حکومت پاکستان سے فوری مداخلت اور تعاون کی اپیل کی ہے تاکہ وہ محفوظ طریقے سے اپنے وطن واپس آ سکیں۔

اس حوالے سے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایک پریس کانفرنس میں دفتر خارجہ کو ہدایت کی تھی کہ افغانستان میں موجود پاکستانی طلبہ کی مدد کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ حکومت بیرون ملک موجود پاکستانی شہریوں، بالخصوص طلبہ، کو درپیش مشکلات سے آگاہ ہے اور ان کے حل کے لیے سفارتی ذرائع بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

طلبہ کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ کئی ہفتوں سے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، رہائش، خوراک اور سیکیورٹی سے متعلق مسائل بڑھتے جا رہے ہیں، جبکہ تعلیمی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ پاکستانی سفارتخانے فوری طور پر افغان حکام کے ساتھ رابطہ کر کے تصدیقی عمل مکمل کریں تاکہ ان کی واپسی ممکن بنائی جا سکے۔

دفتر خارجہ کے ذرائع کے مطابق معاملے پر غور جاری ہے اور افغان حکام سے رابطے میں ہیں، تاہم سفارتی تصدیق کے عمل اور واپسی کے شیڈول سے متعلق تاحال کوئی حتمی اعلان نہیں کیا گیا۔

دیکھیں: افغانستان کے دارالحکومت کابل میں دھماکہ، 9 افراد ہلاک

متعلقہ مضامین

پشاور میں ہنگو آپریشن کے دوران شہید ہونے والے 2 افسران سمیت پاک فوج کے 6 اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔

September 21, 2026

ضلع کرم میں سکیورٹی آپریشن کے دوران افغان نژاد عسکریت پسند ڈاکٹر عبیداللہ سعید بدری ساتھیوں سمیت مارا گیا، جس سے سرحد پار دہشت گردی کے روابط کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔

September 21, 2026

ہنگو میں سکیورٹی فورسز اور خوارج کے درمیان فائرنگ میں 8 دہشت گرد ہلاک ہوگئے، 2 افسران سمیت 6 اہلکار شہید ہوگئے۔

September 20, 2026

حکومت نے 27 ستمبر کے احتجاج کے تناظر میں پُرتشدد کارروائیوں اور سڑکوں کی بندش کے خلاف سخت قانونی اقدامات نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

September 20, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *