مددگار یا مکار؟ سوات واقعہ اور پولیس کی خاتون سے زیادتی

مددگار یا مکار؟

سوات میں پشاور سے آنے والی خاتون کے ساتھ مبینہ زیادتی کے الزام میں دو پولیس اہلکاروں کی گرفتاری نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ جب محافظ ہی خطرہ بن جائیں تو شہری بھروسا کس پر کریں۔

افغانستان: منشیات کی معیشت اور بگڑتی ہوئی ریاست

تعلیم کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔ جب بچوں، بالخصوص بچیوں، کو تعلیم سے روکا جاتا ہے تو نہ صرف ان کا مستقبل تاریک ہوتا ہے بلکہ پورا معاشرہ جہالت، غربت اور جرائم کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ افغانستان میں تعلیم کی کمی اور منشیات کے پھیلاؤ کے درمیان گہرا تعلق نظر آتا ہے، کیونکہ لاعلمی اور بے روزگاری ایسے مسائل کو جنم دیتی ہے جو معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر دیتے ہیں۔
افغانستان: منشیات کی معیشت اور بگڑتی ہوئی ریاست

افغانستان کے مسائل محض وقتی یا محدود نوعیت کے نہیں ہیں۔ منشیات کی معیشت، کمزور حکمرانی، خراب معاشی حالات اور تعلیم پر پابندیاں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ اگر طالبان حکومت واقعی ملک میں استحکام اور بہتری چاہتی ہے تو اسے محض دعوؤں کے بجائے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

January 27, 2026

افغانستان اس وقت ایک نہایت نازک دور سے گزر رہا ہے۔ طالبان حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد یہ امید کی جا رہی تھی کہ ملک میں امن و استحکام آئے گا اور غیر قانونی سرگرمیوں، خاص طور پر منشیات کے کاروبار پر قابو پایا جائے گا۔ تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔ افغانستان میں منشیات کی معیشت نہ صرف بدستور قائم ہے بلکہ یہ ریاستی کمزوری، معاشی بدحالی اور سماجی بحران کی ایک بڑی علامت بن چکی ہے۔

افغانستان طویل عرصے سے افیون اور دیگر نشہ آور اشیا کی پیداوار کے حوالے سے دنیا میں جانا جاتا ہے۔ طالبان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد منشیات کے خلاف اقدامات کا اعلان ضرور کیا، مگر غربت، بے روزگاری اور کمزور نظامِ حکومت کے باعث کسان اور مزدور آج بھی اس کاروبار سے جڑے ہوئے ہیں۔ منشیات سے حاصل ہونے والا پیسہ وقتی طور پر کچھ لوگوں کو سہارا دیتا ہے، مگر مجموعی طور پر یہ ملک کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل رہا ہے اور علاقائی و عالمی سطح پر سیکیورٹی خدشات کو بڑھا رہا ہے۔

افغانستان کی معیشت اس وقت شدید دباؤ میں ہے۔ بین الاقوامی پابندیاں، غیر ملکی سرمایہ کاری کی عدم موجودگی اور انتظامی نااہلی نے معاشی سرگرمیوں کو تقریباً مفلوج کر دیا ہے۔ عام افغان شہری کے لیے روزگار کے مواقع محدود ہو چکے ہیں اور بنیادی ضروریات زندگی حاصل کرنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں منشیات کی معیشت ایک متبادل مگر خطرناک ذریعۂ آمدن بن کر ابھرتی ہے، جو ریاستی رٹ کو مزید کمزور کرتی ہے۔

یہ معاشی بحران صرف مالی مسائل تک محدود نہیں بلکہ اس کے گہرے سماجی اثرات بھی ہیں۔ نوجوان نسل، جو کسی بھی ملک کا مستقبل ہوتی ہے، تعلیم اور روزگار کے مواقع نہ ہونے کے باعث مایوسی کا شکار ہو رہی ہے۔ اس صورتحال کو طالبان حکومت کی تعلیمی پالیسیوں نے مزید سنگین بنا دیا ہے، خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم پر عائد پابندیاں ایک تشویشناک قدم ہیں۔ لڑکیوں کو سکول اور اعلیٰ تعلیم سے محروم کرنا دراصل ملک کی نصف آبادی کو ترقی کے عمل سے باہر دھکیلنے کے مترادف ہے۔

تعلیم کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔ جب بچوں، بالخصوص بچیوں، کو تعلیم سے روکا جاتا ہے تو نہ صرف ان کا مستقبل تاریک ہوتا ہے بلکہ پورا معاشرہ جہالت، غربت اور جرائم کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ افغانستان میں تعلیم کی کمی اور منشیات کے پھیلاؤ کے درمیان گہرا تعلق نظر آتا ہے، کیونکہ لاعلمی اور بے روزگاری ایسے مسائل کو جنم دیتی ہے جو معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر دیتے ہیں۔

یہ تمام حقائق اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ افغانستان کے مسائل محض وقتی یا محدود نوعیت کے نہیں ہیں۔ منشیات کی معیشت، کمزور حکمرانی، خراب معاشی حالات اور تعلیم پر پابندیاں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ اگر طالبان حکومت واقعی ملک میں استحکام اور بہتری چاہتی ہے تو اسے محض دعوؤں کے بجائے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ منشیات کے خلاف مؤثر کارروائی، معاشی اصلاحات اور بلاامتیاز تعلیم کی فراہمی ہی وہ راستہ ہے جو افغانستان کو ایک محفوظ اور مستحکم مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

دیکھیں: افغانستان میں تاپی منصوبے کی پیش رفت، 91 کلومیٹر مکمل

متعلقہ مضامین

بنوں کے علاقے بکاخیل میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں دہشت گرد کمانڈر گرینڈ ہلاک ہوگیا۔

November 5, 2026

اسلام آباد میں نمل یونیورسٹی روڈ پر کار اور موٹر سائیکل کے تصادم میں 5 افراد زخمی ہو گئے، دو لڑکیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

November 5, 2026

سعودی عرب نے مدینہ منورہ کی جانب داغا گیا حوثیوں کا بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کر دیا، عسکری اتحاد نے واقعے کی تصدیق کردی۔

November 5, 2026

وزیراعظم شہباز شریف نے فیول ریلیف پروگرام کے تحت مستحق شہریوں کو سبسڈی نہ دینے والے پیٹرول پمپس کے لائسنس منسوخ کرنے کا حکم دے دیا۔

November 5, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *