وادیٔ تیراہ کے علاقے سے سردیوں میں ہونے والی نقل مکانی کو حالیہ دنوں میں میڈیا میں ایک بحرانی صورت حال کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، لیکن تاریخی حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک صدیوں پرانی فطری اور جغرافیائی ضرورت ہے۔ تیرہ جو 7,500 فٹ کی بلندی پر واقع ہے، ہر سال شدید سردیوں میں مکمل طور پر برف سے ڈھک جاتا ہے، جس کے باعث یہاں انسانی آبادی کا رہنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ یہ نقل مکانی کا عمل کتابوں، سرکاری گزٹوں اور مقامی بزرگوں کی زبانی روایات میں بھی درج ہے اور ہر سال کا ایک معمول ہے۔

حالیہ تناظر کے پس منظر میں یہ بات قابلِ غور ہے کہ پاکستان فوج نے تیراہ میں کسی بھی فوجی آپریشن کا اعلان نہیں کیا ہے اور سکیورٹی ماہرین کے مطابق سردیوں کا موسم خصوصاً اس بلندی پر فوجی کارروائیوں کے لیے قطعی موزوں نہیں ہوتا۔ جب شہری موسمی سختیوں کے باعث علاقہ چھوڑتے ہیں، تو عسکریت پسند بھی ان خالی اور منجمد پہاڑوں میں نہیں ٹھہر سکتے۔
خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے خود اس نقل مکانی کو عارضی اور رضاکارانہ قرار دیا ہے۔ منطقی طور پر اگر یہ عمل واقعی رضاکارانہ ہے تو اس پر کسی جبر یا آپریشن کا الزام لگانا درست نہیں۔ تاہم حکومت کے اعلان کردہ 4 ارب روپے کے معاوضے کے باوجود، انتظامی ناکامیوں نے صورتحال کو مشکل بنا دیا۔ رجسٹریشن کے ناکافی پوائنٹس، کم عملے اور غیر منظم انتظام کے باعث لوگوں کو طویل قطاروں، انتظار اور ٹریفک جام جیسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بات اہم ہے کہ تیرہ کے رہائشیوں کے پاس بارہ اور قریب کے علاقوں میں اپنے گہریں موجود ہیں، جہاں وہ ہر سردی کا موسم گزارتے ہیں۔ اس لیے کیمپ قائم کرنے کی کوئی حقیقی ضرورت نہیں تھی۔ موجودہ دور میں جو مشکلات دیکھنے میں آئی ہیں، وہ بنیادی طور پر سول انتظامیہ کی خراب منصوبہ بندی، غیر مؤثر انتظام اور وسائل کی غیر مناسب تقسیم کا نتیجہ ہیں، نہ کہ کسی جبری یا غیر فطری عمل کا۔
میڈیا کوریج اور عوامی بیانیے کا جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ ایک تاریخی اور فطری عمل کو غلط طور پر ایک بحران کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس میں انتظامی ناکامیوں کو تو اجاگر کیا جانا چاہیے تھا، لیکن اس کے بجائے پوری صورتحال کو ایک متنازعہ اور جبری عمل کا رنگ دے دیا گیا۔
اس صورتحال کے پیش نظر، ماہرین اور تجزیہ کاروں کا مشورہ ہے کہ مستقبل میں ایسے موسمی نقل مکانی کے عمل کو منظم کرنے کے لیے حکومت کو پہلے سے جامع منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ رجسٹریشن مراکز کی تعداد میں اضافہ، انتظامی عملے کی تربیت اور وسائل کی بروقت تقسیم ناگزیر ہے۔ عوام کو درست اور بروقت معلومات فراہم کرنا بھی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے تاکہ غلط فہمیوں اور بے جا خوف و ہراس سے بچا جا سکے۔

آخر میں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ تیرہ کی سردیوں کی نقل مکانی ایک جغرافیائی حقیقت اور تاریخی روایت ہے، جسے انتظامی نااہلی کے باعث ایک مسئلہ بنا دیا گیا۔ اس عمل کو اس کے اصل تناظر میں دیکھنے، انتظامی کمزوریوں کو دور کرنے اور عوام کو درست معلومات فراہم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہر سال آنے والے اس فطری عمل کو ہمیشہ کے لیے ایک مسئلہ بننے سے روکا جا سکے۔
دیکھیں: افغانستان میں تاپی منصوبے کی پیش رفت، 91 کلومیٹر مکمل