امارتِ اسلامیہ افغانستان کی وزارت انصاف نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے قانون سازی کے عمل اور ان کے شرعی جواز کے تحفظ کے لیے نئی لکیر کھینچ دی ہے۔ وزارت کا مؤقف ہے کہ افغانستان کا ہر قانونی ضابطہ اور دستاویز فقہ حنفی کے دقیق اور جامع شرعی اصولوں کی عکاسی کرتا ہے اور اس کی تیاری میں اعلیٰ ترین سطح پر متعدد شرعی چیک پوائنٹس سے گزرنے کے بعد ہی منظوری دی گئی ہے۔
وزارت کے بیان کے مطابق کوئی بھی قانونی مسودہ صرف متعلقہ وزارت یا محکمے تک محدود نہیں رہتا۔ اسے قانونی شکل دینے کے لیے ایک جامع “شرعی معائنہ اور منظوری کا عمل” اختیار کیا جاتا ہے، جس میں وزارت انصاف، سپریم کورٹ کے شرعی ماہرین اور امیرالمؤمنین کے دفتر کی سطح پر قائم ممتاز افغان علماء کے خصوصی وفود شامل ہوتے ہیں۔ ان تمام اداروں کے گہرے جائزے، بحث و مباحثے اور متفقہ شرعی رائے کے بعد ہی کسی متن کو حتمی شکل دی جاتی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ امارتِ اسلامیہ کی قانون سازی کی دستاویزات میں کوئی ایسا مضمون، شق، دفعہ یا حکم نہیں ہے جو اسلامی شریعت کے مطابق نہ ہو اور اس کا کوئی شرعی ماخذ نہ ہو۔ بلکہ یہ مکمل طور پر اسلامی شریعت کے مطابق ہیں جن پر اعتراض کرنا شریعت پر اعتراض ہے۔
پر اسلامي قوانینو اعتراض، پر شریعت اعتراض دی او قانوني تعقیب لري
— دعدلیې وزارت – وزارت عدلیه (@MojAfghanistan) January 28, 2026
د افغانستان اسلامي امارت تقنيني اسناد د افغانستان د جیدو علماوو د ګڼو هیئتونو لخوا د هر وزارت او اړوندې ادارې، د عدلیې وزارت، سترې محکمې او د عاليقدر امیرالمؤمنین حفظه الله تعالی د دفتر… https://t.co/XRnSdgPB6J pic.twitter.com/XR5ARSsh4q
افغان وزارت نے اس بات کی واضح کرتے ہوئے اختتام کیا کہ ان قوانین پر اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس پر اعتراض کی کوئی معقول توجیہ بھی نہیں ہے، لہذا اعتراض کرنے والوں کو عدالت میں پیش ہوکر سزا بھگتنا پڑے گی۔
وزارت انصاف کا یہ بیان ان تمام بیرونی اعتراضات اور تنقیدوں کے جواب میں ایک جامع، اصولی اور غیرمتبادل موقف کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس سے طالبان حکومت کا واضح ہوتا ہے کہ وہ اپنے قانونی ڈھانچے میں کسی قسم کی بنیادی یا بیرونی دباؤ کے تحت اصلاحات پر تیار نہیں ہے۔ حکومت کے نزدیک، ان کے قوانین کی واحد کسوٹی “شرعی صحت” ہے، نہ کہ بین الاقوامی معیارات یا بیرونی اداروں کی رائے۔
بین الاقوامی ردعمل
سیاسی مبصرین کے مطابق وزارت کا یہ سخت بیان ممکنہ طور پر بین الاقوامی برادری اور طالبان حکومت کے درمیان موجودہ کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ یہ مؤقف افغانستان کی عالمی سطح پر تنہائی، ممکنہ مزید معاشی پابندیوں، اور سفارتی مراکز میں اس کی وکالت کے لیے چیلنجز پیدا کر سکتا ہے۔ واضح رہے کہ بیان میں بین الاقوامی اداروں کا براہ راست تذکرہ نہیں کیا گیا، لیکن یہ ان تمام اعتراضات کے خلاف ایک طاقتور اور عمومی دفاعی پوزیشن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
دیکھیے: ڈیرہ اسماعیل خان میں شادی کی تقریب کے دوران خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے وحید ’جگری‘ محسود کون تھے؟