ان کا کہنا ہے کہ اسلامی فقہ کے تحت جہاد دفاعی نوعیت کا ہوتا ہے اور اس کے لیے ریاستی اجازت لازمی ہوتی ہے، جبکہ سرحد پار حملوں کی حمایت اس اصول کے خلاف ہے۔

March 18, 2026

افغان طالبان دہشتگردوں کو اپنے پاس چھپا رہے ہیں، حتیٰ کہ سرکاری عمارتوں میں بھی انہیں پناہ دی جا رہی ہے

March 18, 2026

یہ اقدام مبینہ طور پر پاکستانی فضائی کارروائیوں کے بعد اختیار کیا گیا، جس میں اسلحہ کے ڈپو اور گولہ بارود کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا تھا

March 18, 2026

حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کو گزشتہ سال حراست میں لیا گیا تھا اور اس پر الزام تھا کہ وہ اہم سکیورٹی تنصیبات سے متعلق معلومات اسرائیلی ایجنسی تک پہنچاتا رہا

March 18, 2026

یہ فیصلہ امن اور مذہبی ہم آہنگی کے جذبے کے تحت کیا گیا ہے، تاہم قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

March 18, 2026

حمداللہ فطرت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان اور فہرست جاری کرتے ہوئے کہا کہ بحالی مرکز کے 492 افراد زندہ ہیں اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

March 18, 2026

امریکہ کی جانب سے طالبان کو مسلسل مالی معاونت، سنگین سوالات جنم لینے لگے

قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ واشنگٹن نے مئی 2023 کے بعد طالبان کو بھیجی جانے والی 40 ملین ڈالر کی نقد ترسیلات کے بارے میں عوامی سطح پر معلومات فراہم کرنا بھی بند کر دی ہیں، جس سے شکوک و شبہات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ کی یہ پالیسی نہ صرف تضادات کا شکار ہے بلکہ خطے میں سلامتی، دہشت گردی کے خلاف بیانیے اور انسانی امداد کے دعووں پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھا رہی ہے۔
امریکہ کی جانب سے طالبان کو مسلسل مالی معاونت، سنگین سوالات جنم لینے لگے

ناقدین کا کہنا ہے کہ طالبان کے زیرِ انتظام افغانستان میں براہِ راست نقد رقم کی منتقلی شفافیت اور احتساب کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے، جبکہ اس عمل سے طالبان حکومت کو عملی طور پر مالی استحکام فراہم ہو رہا ہے۔

January 29, 2026

حیرت انگیز طور پر امریکہ کی جانب سے طالبان حکومت کو مالی معاونت کا سلسلہ بدستور جاری ہے، حالانکہ واشنگٹن عالمی سطح پر اپنے اخراجات کم کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے متعدد اداروں کی رکنیت ترک کر رہا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق امریکہ نے 13 جنوری 2026 کو طالبان کو 45 ملین ڈالر نقد ادا کیے، جبکہ اسی ماہ کے اختتام تک مزید 90 ملین ڈالر فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق جنوری 2026 کے وسط میں امریکی محکمہ خارجہ نے افغانستان کی تعمیرِ نو کے لیے خصوصی انسپکٹر جنرل (سیگار) کو تصدیق کی کہ امریکہ طالبان کو ہر 10 سے 14 دن بعد تقریباً 80 ملین ڈالر نقد منتقل کر رہا ہے۔ اس مسلسل نقد ترسیل نے بین الاقوامی حلقوں اور انسانی حقوق کے اداروں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ طالبان کے زیرِ انتظام افغانستان میں براہِ راست نقد رقم کی منتقلی شفافیت اور احتساب کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے، جبکہ اس عمل سے طالبان حکومت کو عملی طور پر مالی استحکام فراہم ہو رہا ہے۔ اس کے برعکس امریکہ کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ یہ رقوم انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی جا رہی ہیں، تاہم ان فنڈز کے استعمال سے متعلق واضح تفصیلات سامنے نہیں آ رہیں۔

قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ واشنگٹن نے مئی 2023 کے بعد طالبان کو بھیجی جانے والی 40 ملین ڈالر کی نقد ترسیلات کے بارے میں عوامی سطح پر معلومات فراہم کرنا بھی بند کر دی ہیں، جس سے شکوک و شبہات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ کی یہ پالیسی نہ صرف تضادات کا شکار ہے بلکہ خطے میں سلامتی، دہشت گردی کے خلاف بیانیے اور انسانی امداد کے دعووں پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھا رہی ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ طالبان کو مسلسل مالی امداد ایسے وقت میں دی جا رہی ہے جب افغانستان میں خواتین کے حقوق، آزادی اظہار اور اقلیتی تحفظات کی صورتحال بدستور تشویشناک ہے، جس کے باعث امریکہ کی افغان پالیسی ایک بار پھر عالمی بحث کا موضوع بن گئی ہے۔

دیکھیے: افغانستان میں برفانی تودہ گرنے سے ٹی ٹی پی کے 35 ارکان ہلاک، مزید ہلاکتوں کا خدشہ

متعلقہ مضامین

ان کا کہنا ہے کہ اسلامی فقہ کے تحت جہاد دفاعی نوعیت کا ہوتا ہے اور اس کے لیے ریاستی اجازت لازمی ہوتی ہے، جبکہ سرحد پار حملوں کی حمایت اس اصول کے خلاف ہے۔

March 18, 2026

افغان طالبان دہشتگردوں کو اپنے پاس چھپا رہے ہیں، حتیٰ کہ سرکاری عمارتوں میں بھی انہیں پناہ دی جا رہی ہے

March 18, 2026

یہ اقدام مبینہ طور پر پاکستانی فضائی کارروائیوں کے بعد اختیار کیا گیا، جس میں اسلحہ کے ڈپو اور گولہ بارود کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا تھا

March 18, 2026

حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کو گزشتہ سال حراست میں لیا گیا تھا اور اس پر الزام تھا کہ وہ اہم سکیورٹی تنصیبات سے متعلق معلومات اسرائیلی ایجنسی تک پہنچاتا رہا

March 18, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *