خیبرپختونخوا میں ایک طرف صوبائی حکومت کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وادیٔ تِیراہ میں ایک لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جو شدید سردی، خوراک کی قلت اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ حکومت کے مطابق یہ صورتحال ایک انسانی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے اور فوری توجہ کی متقاضی ہے۔
دوسری جانب، اسی صوبے کی سیاسی قیادت کا بڑا حصہ، بشمول اہم وزرا، انتظامی عہدیداران اور خود وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی، راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہر دھرنے میں مصروف نظر آتا ہے۔ یہ دھرنا عمران خان کی رہائی اور طبی مسائل کے حوالے سے دیا جا رہا ہے، جس پر سیاسی و سماجی حلقوں میں شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر واقعی تِیراہ میں ایک لاکھ سے زائد افراد بے گھر اور مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں تو صوبے کی اعلیٰ قیادت کی اولین ترجیح میدانِ سیاست کے بجائے میدانِ عمل ہونی چاہیے تھی۔ ان کے مطابق متاثرین کی بحالی، امداد اور تحفظ جیسے معاملات کو پسِ پشت ڈال کر اڈیالہ جیل کے باہر موجودگی صوبائی حکومت کی سنجیدگی پر سوالیہ نشان ہے۔
سیاسی جماعتوں اور تجزیہ کاروں نے اس صورتحال کو دوہرے معیار کی واضح مثال قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک طرف پی ٹی آئی وادیٔ تِراہ سے مبینہ طور پر ایک لاکھ افراد کی جبری نقل مکانی پر شدید احتجاج اور شور شرابا کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب اسی جماعت کی قیادت ایک فرد کے مسئلے پر دھرنا دے کر ہزاروں دہشت گردی سے متاثرہ شہریوں کو نظرانداز کر رہی ہے۔
ناقدین کے مطابق یہ رویہ خیبرپختونخوا میں گورننس کے بحران کی علامت ہے، جہاں انسانی مسائل کو سیاسی مفادات پر قربان کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر صوبائی حکومت واقعی عوامی مسائل کے حل میں سنجیدہ ہے تو اسے فوری طور پر تِیراہ کے متاثرین کی امداد، بحالی اور تحفظ کو اولین ترجیح دینا ہوگی، بصورتِ دیگر ایسے تضادات عوام کے اعتماد کو مزید کمزور کریں گے۔