مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں گزشتہ پندرہ روز سے جاری جھڑپوں میں شدت آ گئی ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق چھاترو کے علاقے ڈولگام میں مسلح افراد اور بھارتی فورسز کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں بھارتی فوج کو جانی نقصان اٹھانا پڑا۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ تازہ مقابلے میں متعدد بھارتی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، تاہم بھارتی حکام نے معمول کے مطابق نقصانات کی تفصیلات محدود رکھی ہیں اور صرف چند اہلکاروں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ دوسری جانب آزاد ذرائع کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں مجموعی طور پر درجنوں اہلکار ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں، جن میں افسران اور پیرا کمانڈوز بھی شامل بتائے جاتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج نے علاقے میں آپریشن کے دوران ہیلی کاپٹروں، ڈرونز اور جدید نگرانی کے آلات کا استعمال کیا۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ متعدد مقامات پر محاصرے قائم کیے گئے، تاہم مسلح افراد مختلف مواقع پر علاقے سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔
حالیہ جھڑپوں کے بعد کشتواڑ اور ملحقہ علاقوں میں بھارتی فورسز نے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشنز شروع کر دیے ہیں۔ داخلی اور خارجی راستوں پر ناکے قائم کر دیے گئے ہیں جبکہ موبائل اور انٹرنیٹ سروسز کی نگرانی بھی سخت کر دی گئی ہے۔
سیاسی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں مسلسل کشیدگی اور طویل آپریشنز سے مقامی آبادی شدید متاثر ہو رہی ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔ دوسری جانب سکیورٹی حکام کا مؤقف ہے کہ کارروائیاں مسلح گروہوں کی موجودگی کے باعث کی جا رہی ہیں اور علاقے میں امن و امان قائم رکھنا ان کی ترجیح ہے۔
کشتواڑ میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے اور آنے والے دنوں میں سکیورٹی آپریشنز کے مزید دائرہ کار میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دیکھیے: جموں و کشمیر: ضلع کشتواڑ میں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل