حکومتِ بلوچستان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ کالعدم دہشت گرد تنظیموں بشمول بی ایل اے، بی ایل ایف اور ان کے ذیلی دھڑوں میں شامل افراد کے اہلِ خانہ، اگر بروقت متعلقہ حکام کو اطلاع نہ دیں یا دہشت گرد عناصر سے باضابطہ لاتعلقی اختیار نہ کریں، تو ان کے خلاف سخت قانونی اور انتظامی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق یہ پالیسی پہلے ہی متعدد بار عوام کے سامنے واضح کی جا چکی ہے، جس کا مقصد دہشت گردی کے نیٹ ورک کو جڑ سے ختم کرنا اور سہولت کاری کے تمام راستے بند کرنا ہے۔
ممکنہ پابندیاں
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ خاندانوں کے خلاف درج ذیل اقدامات کیے جا سکتے ہیں:
پاسپورٹس بلاک کیے جائیں گے، بینک اکاؤنٹس منجمد ہوں گے، موبائل سمز معطل کی جائیں گی، جائیداد کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کی جائے گی، سرکاری اداروں کے ساتھ تمام معاہدے ختم کیے جائیں گے، جبکہ سرکاری ملازمتیں منسوخ اور ٹینڈرز و دیگر سرکاری مصروفیات بھی ختم کر دی جائیں گی۔
حالیہ دہشت گرد حملے کے بعد پیش رفت
حکومتی ذرائع کے مطابق 31 جنوری کو بی ایل اے کے حالیہ دہشت گرد حملے کے بعد اب تک 140 دہشت گردوں کی شناخت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ ریاستِ پاکستان اب اس پالیسی کے تحت عملی اقدامات شروع کر رہی ہے، جس کا اعلان پہلے ہی واضح اور دو ٹوک انداز میں کیا جا چکا تھا۔
اہلِ خانہ کے لیے وضاحت
اعلامیے میں یہ بھی وضاحت کی گئی ہے کہ وہ خاندان جنہوں نے ازخود اپنے رشتہ داروں کی دہشت گرد سرگرمیوں سے متعلق بروقت اطلاع دی اور تحریری طور پر دہشت گرد عناصر سے لاتعلقی اختیار کی، ان کے خلاف کوئی پابندی عائد نہیں کی جائے گی۔
قومی سلامتی کا تقاضا
حکومتِ بلوچستان کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات قومی سلامتی، قانون کی بالادستی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے پیشِ نظر کیے جا رہے ہیں۔ ریاست دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری رہے گی۔
دیکھیے: بلوچستان اور بیانیے کی جنگ