وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف کل دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ رہے ہیں۔ دفتر خارجہ کے مطابق صدر توکائیف کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی ہوگا، جس میں سینئر وزراء اور سرکاری حکام شامل ہیں۔
دورے کے دوران صدر قازقستان کی صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ نیز وہ پاکستان۔ قازقستان بزنس فورم سے خطاب بھی کریں گے۔ دونوں ممالک کے وفود کے مابین مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا جائے گا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مذاکرات میں تجارت، نقل و حمل، علاقائی رابطہ کاری، ثقافتی تعلقات، ریلوے رابطوں اور باہمی منسلکی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر تفصیلی بات چیت ہوگی۔ نیز علاقائی اور بین الاقوامی فورمز پر باہمی تعاون کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
سفارتی ذرائع کے مطابق اس دورے میں مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کی توقع ہے۔ اس سے قبل آئی ٹی، زراعت، تعلیم، دفاع، تجارت اور سیاحت سے متعلق مشترکہ ورکنگ گروپس کے اجلاسوں میں بنیادی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ صدر قازقستان کا یہ دورہ پاکستان اور قازقستان کے درمیان مضبوط ہوتے تعلقات، تاریخی و ثقافتی ہم آہنگی کو عملی تعاون میں بدلنے کے عزم اور خطے میں امن و ترقی کے مشترکہ وژن کی عکاسی کرتا ہے۔
دیکھیے: سی ایس ٹی او کی تاجکستان کو افغان سرحد سے دراندازی روکنے کے لیے فوجی معاونت