بھارت نے اپنے نئے مالی سال 2026-27 کے لیے دفاعی شعبے میں بڑا اضافہ کرتے ہوئے 7.85 لاکھ کروڑ روپے (85 ارب ڈالر سے زائد) کا ریکارڈ بجٹ پیش کیا ہے۔ یہ گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 15 فیصد اضافے کے برابر ہے اور ملک کی مسلح افواج کے لیے اب تک کا سب سے بڑا فنڈز الاٹمنٹ سمجھا جا رہا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اس بجٹ میں فوجی اہلکاروں کی تنخواہیں اور پینشنز، دفاعی ساز و سامان کی خریداری، نیز جدید ترین ہتھیاروں کے حصول کو ترجیح دی گئی ہے۔ فوجی جدید کاری کے لیے مخصوص 2.19 لاکھ کروڑ روپے میں جدید لڑاکا طیارے، بحری جہاز، آبدوزیں اور خودکار ڈرون سسٹمز شامل ہیں۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ دفاعی سرمایہ کاری کا 75 فیصد حصہ مقامی صنعت اور ‘میک ان انڈیا’ پروگرام کے تحت استعمال کیا جائے گا۔
بجٹ میں ریٹائرڈ فوجیوں کے لیے 1.71 لاکھ کروڑ روپے پینشن کے طور پر مختص کیے گئے ہیں، جس سے لاکھوں سابق فوجیوں کو فائدہ پہنچے گا۔ اس کے علاوہ فوجی تنخواہوں، گولہ بارود اور روزمرہ آپریشنل اخراجات کا بھی خصوصی طور پر انتظام کیا گیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ اس بجٹ کے ذریعے ملکی دفاعی صنعت کو تقویت دینے اور ہتھیاروں کی درآمد پر انحصار کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ساتھ ہی ہوائی اور بحری طاقت کو بڑھانے، سرحدی علاقوں کے انفراسٹرکچر کو مستحکم کرنے اور ‘انڈو پیسفک’ خطے میں دفاعی کردار کو مؤثر بنانے پر بھی توجہ مرکوز ہے۔
ماہرینِ دفاع کا خیال ہے کہ یہ بجٹ بھارت کی بڑھتی ہوئی عسکری ضروریات اور خطے میں موجود سیکیورٹی چیلنجز اور سرحدی کشیدگیوں کے پیشِ نظر فوجی تیاریوں میں تیزی لانے کا واضح اشارہ ہے۔
دیکھیے: کشتواڑ میں پندرہ روز سے جاری جھڑپوں میں بھارتی فوج کو جانی نقصان، سرچ آپریشنز میں تیزی