چین کے جدید ترین اور پُراسرار ہتھیاروں میں شمار ہونے والے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ائیر ٹو ائیڑ میزائل پی ایل-17 کی پہلی جھلک منظرِ عام پر آ گئی ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ میزائل اپنی قسم میں دنیا کی سب سے زیادہ مار کرنے کی صلاحیت رکھنے والا ہتھیار ہو سکتا ہے، جو مغربی بحرالکاہل میں امریکی فضائی بالادستی کے لیے ایک اہم چیلنج ثابت ہوگا۔
چینی میڈیا کے حوالے سے اس میزائل کی ایک تصویر حال ہی میں ملکی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہوئی، جس کے پس منظر اور مقام کے بارے میں سرکاری طور پر کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔ دفاعی ماہرین کے مطابق پی ایل 17 دنیا میں سب سے زیادہ رینج رکھنے والا فضا سے فضا میں مار کرنے والا میزائل ہو سکتا ہے اور مغربی بحرالکاہل میں امریکی فضائی برتری کے لیے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پی ایل 17 میزائيل جو اس ہتھیار کے اصل سائز اور تخمینی صلاحیتوں کا اندازہ کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ نیز خبردار کیا گیا ہے کہ پی ایل-17 کی ممکنہ تعیناتی خطے کے موجودہ فضائی توازن کو یکسر تبدیل کر سکتی ہے اور یہ عالمی دفاعی حلقوں میں نگرانی کا اہم مرکز بن سکتی ہے۔
دیکھیے: ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے تمام ممالک پر 25 فیصد اضافی ٹیکس عائد کر دیا