"> سیاست میں مذاکرات کی گنجائش موجود؛ رانا ثنا اللہ نے واضح کر دیا
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

دہشت گردی پر زیرو ٹالرنس، سیاست میں مذاکرات کی گنجائش موجود؛ رانا ثنا اللہ نے واضح کر دیا

بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں حالیہ حملوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے شہریوں، تنصیبات اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کی مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی کوئی توجیہہ نہیں ہو سکتی اور جو عناصر اس کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں وہ دراصل قومی یکجہتی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
دہشت گردی پر زیرو ٹالرنس، سیاست میں مذاکرات کی گنجائش موجود؛ رانا ثنا اللہ نے واضح کر دیا

سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت سے متعلق خبروں پر انہوں نے کہا کہ خود ان کے وکیل کی رپورٹ میں سنگین خدشات کی تردید کی گئی ہے، اس لیے صحت کے معاملات کو سیاسی ہتھیار بنانا مناسب نہیں۔

February 13, 2026

پاکستان ناؤ کے ایک حالیہ پوڈکاسٹ ایپی سوڈ میں وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے ملکی سیاسی ماحول، بلوچستان و خیبرپختونخوا میں دہشت گردی، اور پاکستان تحریک انصاف کے داخلی معاملات پر کھل کر گفتگو کی۔ گفتگو میں ان کا لہجہ جارحانہ مگر مہذب رہا، اور ریاستی مؤقف واضح انداز میں پیش کیا گیا کہ دہشت گردی کے معاملے پر کسی ابہام کی گنجائش نہیں۔

آزادیٔ اظہار اور بلوچستان واقعہ

رانا ثناء اللہ نے عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے دوران واک آؤٹ کے واقعے پر کہا کہ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر دوسروں کی بات سننے کا حوصلہ بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ انہوں نے سیاسی مطالبات جیسے انتخابی شفافیت اور دہشت گردی کو الگ خانوں میں رکھنے پر زور دیا۔ ان کے مطابق سیاسی مسائل مکالمے سے حل ہوتے ہیں، مگر دہشت گردی کے لیے ریاست کے پاس صرف ایک راستہ ہے: فیصلہ کن کارروائی۔

دہشت گردی: قومی مؤقف اور سرحد پار پناہ گاہیں

بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں حالیہ حملوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے شہریوں، تنصیبات اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کی مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی کوئی توجیہہ نہیں ہو سکتی اور جو عناصر اس کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں وہ دراصل قومی یکجہتی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ انہوں نے بھارت کے مبینہ کردار کا بھی حوالہ دیا اور مطالبہ کیا کہ سرحد پار محفوظ ٹھکانوں کا خاتمہ قومی ترجیح ہونی چاہیے۔ پیغام واضح تھا: دہشت گردی کے خلاف پورا ملک ایک صفحے پر آئے۔

پی ٹی آئی کی اندرونی سیاست اور عمران خان کی صحت

پاکستان تحریک انصاف کے حوالے سے رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا کہ جماعت میں نظم و ضبط کا فقدان قیادت کے طرزِ سیاست سے جڑا ہے۔ انہوں نے “وہیل جام ہڑتال” کی ناکامی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عوامی پذیرائی محدود رہی۔ سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت سے متعلق خبروں پر انہوں نے کہا کہ خود ان کے وکیل کی رپورٹ میں سنگین خدشات کی تردید کی گئی ہے، اس لیے صحت کے معاملات کو سیاسی ہتھیار بنانا مناسب نہیں۔

حکومت اپوزیشن مذاکرات: دروازہ کھلا ہے

رانا ثناء اللہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت سیاسی امور پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق آئینی تقاضا ہے کہ حکومتی اور اپوزیشن قیادت مشاورت کرے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے متعدد بار ملاقات کی پیشکش کی، مگر مثبت پیش رفت نہ ہو سکی۔ ان کا اصرار تھا کہ پارلیمان ہی مسائل کے حل کا فورم ہے۔

دیکھیے: نورین خانم کی سرکاری افسر کو دھمکیاں: قانونی ماہرین کا ردِعمل

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *