پاکستان ناؤ کے ایک حالیہ پوڈکاسٹ ایپی سوڈ میں وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے ملکی سیاسی ماحول، بلوچستان و خیبرپختونخوا میں دہشت گردی، اور پاکستان تحریک انصاف کے داخلی معاملات پر کھل کر گفتگو کی۔ گفتگو میں ان کا لہجہ جارحانہ مگر مہذب رہا، اور ریاستی مؤقف واضح انداز میں پیش کیا گیا کہ دہشت گردی کے معاملے پر کسی ابہام کی گنجائش نہیں۔
آزادیٔ اظہار اور بلوچستان واقعہ
رانا ثناء اللہ نے عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے دوران واک آؤٹ کے واقعے پر کہا کہ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر دوسروں کی بات سننے کا حوصلہ بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ انہوں نے سیاسی مطالبات جیسے انتخابی شفافیت اور دہشت گردی کو الگ خانوں میں رکھنے پر زور دیا۔ ان کے مطابق سیاسی مسائل مکالمے سے حل ہوتے ہیں، مگر دہشت گردی کے لیے ریاست کے پاس صرف ایک راستہ ہے: فیصلہ کن کارروائی۔
دہشت گردی: قومی مؤقف اور سرحد پار پناہ گاہیں
بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں حالیہ حملوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے شہریوں، تنصیبات اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کی مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی کوئی توجیہہ نہیں ہو سکتی اور جو عناصر اس کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں وہ دراصل قومی یکجہتی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ انہوں نے بھارت کے مبینہ کردار کا بھی حوالہ دیا اور مطالبہ کیا کہ سرحد پار محفوظ ٹھکانوں کا خاتمہ قومی ترجیح ہونی چاہیے۔ پیغام واضح تھا: دہشت گردی کے خلاف پورا ملک ایک صفحے پر آئے۔
پی ٹی آئی کی اندرونی سیاست اور عمران خان کی صحت
پاکستان تحریک انصاف کے حوالے سے رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا کہ جماعت میں نظم و ضبط کا فقدان قیادت کے طرزِ سیاست سے جڑا ہے۔ انہوں نے “وہیل جام ہڑتال” کی ناکامی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عوامی پذیرائی محدود رہی۔ سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت سے متعلق خبروں پر انہوں نے کہا کہ خود ان کے وکیل کی رپورٹ میں سنگین خدشات کی تردید کی گئی ہے، اس لیے صحت کے معاملات کو سیاسی ہتھیار بنانا مناسب نہیں۔
حکومت اپوزیشن مذاکرات: دروازہ کھلا ہے
رانا ثناء اللہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت سیاسی امور پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق آئینی تقاضا ہے کہ حکومتی اور اپوزیشن قیادت مشاورت کرے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے متعدد بار ملاقات کی پیشکش کی، مگر مثبت پیش رفت نہ ہو سکی۔ ان کا اصرار تھا کہ پارلیمان ہی مسائل کے حل کا فورم ہے۔
دیکھیے: نورین خانم کی سرکاری افسر کو دھمکیاں: قانونی ماہرین کا ردِعمل