نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی ضمانت ہے۔

July 23, 2026

بلوچستان میں دہشت گردی کا دائرہ اب صرف سکیورٹی فورسز تک محدود نہیں رہا، ڈاکٹرز، صحافیوں اور وکلا کے بعد اب ججز بھی براہِ راست حملوں کی زد میں آ گئے ہیں۔ مستونگ حملے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج زخمی ہو گئے۔

July 23, 2026

ترجمان دفتر خارجہ نے ایمنسٹی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی موجودگی خطے کی سلامتی کے لیے شدید خطرہ ہے۔

July 23, 2026

مستونگ کے علاقے ولی خان میں سیشن جج کی گاڑی پر نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج اور گن مین شہید، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی ہو گئے۔

July 23, 2026

وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو فون کر کے آئل ٹینکرز پر حوثی حملوں کی مذمت کی اور مملکت کی سلامتی کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔

July 23, 2026

پاکستان تحریک انصاف کا ڈی آئی خان دھرنا: راستہ بند ہونے سے بیمار بچی جاں بحق، خاندان کا احتجاج

واقعے کے بعد اہل خانہ نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ احتجاج کے دوران ہنگامی طبی صورتِ حال کے لیے راستہ یقینی بنانے کا مؤثر نظام وضع کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بروقت رسائی مل جاتی تو شاید بچی کی جان بچائی جا سکتی تھی۔
پاکستان تحریک انصاف کا ڈی آئی خان دھرنا: راستہ بند ہونے سے بیمار بچی جاں بحق، خاندان کا احتجاج

خاندان کے مطابق بچی کی حالت تشویشناک ہونے پر والدہ نے اسے گود میں اٹھا کر کئی گھنٹوں تک پیدل سفر کیا تاکہ کسی متبادل راستے سے ہسپتال پہنچا جا سکے۔ تاہم جب وہ طبی مرکز پہنچے تو ڈاکٹروں نے بچی کے انتقال کی تصدیق کر دی۔

February 15, 2026

ڈیرہ اسماعیل خان میں پاکستان تحریک انصاف کے جاری دھرنے کے باعث راستے بند ہونے کے نتیجے میں ایک کمسن بچی کے جاں بحق ہونے کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ متاثرہ خاندان کے مطابق بچی دمے کی مریضہ تھی اور بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث اس کی جان نہ بچائی جا سکی۔

اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ راولپنڈی سے رشتہ داروں کی شادی میں شرکت کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان آئے تھے۔ واپسی کے دوران وہ سڑکوں کی بندش کے باعث دھرنے میں پھنس گئے۔ بچی کی طبیعت بگڑنے پر والدہ نے مظاہرین سے راستہ دینے کی درخواست کی، تاہم خاندان کا دعویٰ ہے کہ انہیں فوری طور پر گزرنے کی اجازت نہ مل سکی۔

خاندان کے مطابق بچی کی حالت تشویشناک ہونے پر والدہ نے اسے گود میں اٹھا کر کئی گھنٹوں تک پیدل سفر کیا تاکہ کسی متبادل راستے سے ہسپتال پہنچا جا سکے۔ تاہم جب وہ طبی مرکز پہنچے تو ڈاکٹروں نے بچی کے انتقال کی تصدیق کر دی۔

واقعے کے بعد اہل خانہ نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ احتجاج کے دوران ہنگامی طبی صورتِ حال کے لیے راستہ یقینی بنانے کا مؤثر نظام وضع کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بروقت رسائی مل جاتی تو شاید بچی کی جان بچائی جا سکتی تھی۔

دوسری جانب ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور دھرنے کے باعث شہریوں کو درپیش مشکلات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق آئندہ ایسے واقعات سے بچنے کے لیے ہنگامی گاڑیوں اور مریضوں کے لیے خصوصی راستے مختص کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاج آئینی حق ہے، تاہم عوام کی جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت مقدم رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام فریق انسانی ہمدردی کو ترجیح دیں اور ہنگامی حالات میں فوری رسائی کو یقینی بنائیں۔

دیکھیے: یورپی یونین کو پاکستان کی برآمدات میں نمایاں اضافہ،

متعلقہ مضامین

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی ضمانت ہے۔

July 23, 2026

بلوچستان میں دہشت گردی کا دائرہ اب صرف سکیورٹی فورسز تک محدود نہیں رہا، ڈاکٹرز، صحافیوں اور وکلا کے بعد اب ججز بھی براہِ راست حملوں کی زد میں آ گئے ہیں۔ مستونگ حملے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج زخمی ہو گئے۔

July 23, 2026

ترجمان دفتر خارجہ نے ایمنسٹی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی موجودگی خطے کی سلامتی کے لیے شدید خطرہ ہے۔

July 23, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *