پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے انتخابی منشور میں پاک افغان سرحد سے متعلق مؤقف نے ملکی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ دفاعی اور سیاسی تجزیہ کاروں کی جانب سے پارٹی کے اس بیانیے پر سنجیدہ نوعیت کے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
منشور میں پاکستان اور افغانستان کے مابین بین الاقوامی سرحد کو ڈیورنڈ لائن قرار دیا گیا ہے۔ دستاویز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ خطہ پشتون سرزمین کی غیر قانونی تقسیم ہے اور اسے افغانستان سے الگ کیا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق کوئی بھی محب وطن جماعت نوآبادیاتی دور کی ایسی اصطلاح استعمال نہیں کرتی جس سے ملکی سرحدوں پر سوال اٹھے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اصطلاحات دراصل افغان مؤقف کی بازگشت ہیں، جو پاکستان کی علاقائی خودمختاری کے منافی ہیں۔
منشور میں پاک افغان سرحد پر قبائل کے لیے بلا روک ٹوک آمدورفت کی وکالت بھی کی گئی ہے۔ سکیورٹی ماہرین نے اس نکتے کو موجودہ زمینی حالات میں خطرناک قرار دیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ سرحد پار کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور داعش خراسان کے ٹھکانوں کی موجودگی میں یہ نرمی سکیورٹی کے سنگین مسائل پیدا کرے گی۔
سیاسی حلقوں کے مطابق منشور میں سرحد کے دونوں جانب پھیلی ایک مخصوص پشتون سرزمین کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ اس تصور کو نسلی تقسیم کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا اصرار ہے کہ پاکستانی پشتون ریاستی نظام، فوج اور پارلیمان کا فعال اور معتبر حصہ ہیں، لہٰذا ایسے بیانیے کی کوئی گنجائش نہیں۔
اس تناظر میں الیکشن کمیشن آف پاکستان سے باضابطہ مطالبہ سامنے آیا ہے کہ وہ اس منشور کا آئین اور پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ کی روشنی میں جائزہ لے۔ قانونی ماہرین کا مؤقف ہے کہ ملکی سلامتی اور جغرافیائی حدود سے متعلق متنازع مؤقف رکھنے والی جماعتوں کا دستوری جانچ پڑتال کے عمل سے گزرنا ضروری ہے۔
دیکھیے: پاکستان کی جوابی کارروائی، طالبان کا ردعمل زمینی حقائق کے برعکس قرار