سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ ایک بار پھر سامنے آگیا۔ ایم کیو ایم پاکستان کے سینیئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ سندھ میں 6 انتظامی یونٹس بنیں گے اور صوبے کے وسائل تمام علاقوں میں برابر تقسیم ہونے چاہئیں۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص، سکھر، لاڑکانہ اور دیگر علاقوں کو ترقی کے یکساں مواقع ملنے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے وسائل پر ہر علاقے کا حق ہے۔
فاروق ستار نے کہا کہ عمرکوٹ، تھرپارکر، سکھر اور سندھ کے دیگر شہروں کو بھی ترقی کے یکساں مواقع ملنے چاہئیں۔ ان کے مطابق نئے انتظامی یونٹس کے ذریعے اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو یہ حق ملنا چاہیے کہ وہ خود فیصلہ کریں کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے صاف اور شفاف ریفرنڈم بھی کرایا جاسکتا ہے۔
فاروق ستار کا کہنا تھا کہ انتظامی یونٹس کا معاملہ نیا نہیں بلکہ کئی برس سے زیر بحث ہے۔ اب اس پر عوامی رائے سامنے آنی چاہیے۔
میئر کراچی کے اختیارات
فاروق ستار نے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کے اختیارات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر میئر کو مؤثر اختیارات دیے جائیں تو بلدیاتی نظام بہتر انداز میں کام کرسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنا ضروری ہے تاکہ شہری مسائل مقامی سطح پر حل کیے جاسکیں۔
ایم کیو ایم رہنما نے واضح کیا کہ ان کی جماعت نئے انتظامی یونٹس اور بااختیار بلدیاتی نظام کے مؤقف پر قائم ہے اور اس معاملے پر سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی۔
دیکھیے: سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ زور پکڑنے لگا، شہری میدان پر آگئے