امریکہ ایران تنازع میں جہاں دونوں فریق ایک دوسرے پر معاہدہ سبوتاژ کرنے کا الزام لگا رہے ہیں، وہیں اصل قیمت خطے کے وہ ممالک چکا رہے ہیں جن کا اس جنگ سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں۔

July 18, 2026

اسلام آباد میں منعقدہ پاک چین بزنس کانفرنس میں فارماسیوٹیکل شعبے کے مابین 44 کروڑ ڈالرز مالیت کے 9 معاہدے طے پا گئے، جس کے تحت ٹیکنالوجی منتقل اور مقامی طور پر ویکسین تیار ہوگی۔

July 17, 2026

افغانستان کے صوبے بدخشاں میں طالبان مخالف مزاحمتی گروہ نے ایک بڑی کارروائی کے دوران ضلع یفتل کا کنٹرول حاصل کر کے وہاں موجود اسلحہ اور فوجی سازوسامان اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔

July 17, 2026

کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا کشمیری رہنماؤں پر براہ راست حملہ؛ باغ میں سابق وزیر اعظم سردار تنویر الیاس پر فائرنگ کر کے گن مین کو شہید کر دیا۔

July 17, 2026

سری لنکا پولیس نے لنکا پریمیئر لیگ کے آغاز سے چند گھنٹے قبل جعفنا کنگز فرنچائز کے بھارتی شریک مالک منجوت کلرا کو میچ فکسنگ کے شبہے میں گرفتار کر لیا۔

July 17, 2026

امریکی ایف بی آئی نے بھارتی گینگسٹر نتیش کوشل کو ورمونٹ سے گرفتار کر لیا، جس پر قتل، اغوا، منشیات و اسلحہ اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ سمیت متعدد سنگین الزامات عائد ہیں۔

July 17, 2026

افغانستان عالمی دہشت گردی کا گڑھ، ٹی ٹی پی کو طالبان کی مکمل پشت پناہی حاصل: اقوام متحدہ کی رپورٹ

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ طالبان حکومت ٹی ٹی پی اور القاعدہ جیسے گروہوں کو نہ صرف پناہ دے رہی ہے بلکہ انہیں جدید اسلحہ اور سرکاری سفری دستاویزات بھی فراہم کی جا رہی ہیں، جو خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہے
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ طالبان حکومت ٹی ٹی پی اور القاعدہ جیسے گروہوں کو نہ صرف پناہ دے رہی ہے بلکہ انہیں جدید اسلحہ اور سرکاری سفری دستاویزات بھی فراہم کی جا رہی ہیں، جو خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہے

اقوام متحدہ کی 37 ویں مانیٹرنگ رپورٹ کی تفصیلی اشاعت: افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی تنظیمِ نو، ٹی ٹی پی کو حاصل طالبان کی سرپرستی اور پاکستان کی سلامتی پر اس کے اثرات کا جامع احوال

February 16, 2026

اقوام متحدہ کی ‘اینالیٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم’ کی 37 ویں رپورٹ کے مطابق افغانستان میں طالبان کی آمد کے بعد سے دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور ان کی کاروائیوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کے یہ دعوے کہ افغان سرزمین پر کوئی دہشت گرد موجود نہیں، حقائق کے برعکس اور عالمی برادری کو دھوکی دینے کے مترادف ہے۔

طالبان کی سرپرستی

رپورٹ میں تحریک طالبان پاکستان کو افغانستان میں موجود سب سے بڑے اور خطرناک گروہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ یو این مانیٹرنگ ٹیم کے مطابق طالبان حکومت ٹی ٹی پی کو نہ صرف محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہی ہے بلکہ انہیں سرکاری سطح پر ‘اجازت نامے’ اور ‘سفری دستاویزات’ بھی جاری کی گئی ہیں تاکہ وہ آزادانہ نقل و حرکت کر سکیں۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 11 نومبر 2025 کو اسلام آباد کورٹ پر ہونے والا خودکش حملہ، جس میں 12 قیمتی لوگ جاں بحق ہوئے، اسی نیٹ ورک کی افغان سرزمین سے کی جانے والی منصوبہ بندی کا نتیجہ تھا۔

جدید اسلحہ اور بلیک مارکیٹ
ایک تشویشناک انکشاف یہ بھی کیا گیا ہے کہ انخلاء کے وقت چھوڑے گئے جدید امریکی اسلحے اور بلیک مارکیٹ سے حاصل کردہ فوجی ساز و سامان نے ٹی ٹی پی کی مہلک صلاحیت کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ اس اسلحے کی بدولت ٹی ٹی پی اب پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے خلاف زیادہ دہشت گردانہ اور خونی حملے کرنے کے قابل ہو چکی ہے۔

القاعدہ اور داعش کا بڑھتا ہوا نیٹ ورک
رپورٹ کے مطابق القاعدہ تاحال طالبان کی سرپرستی میں فعال ہے اور ٹی ٹی پی کے لیے ‘ٹریننگ ماسٹر’ اور مربی کا کردار ادا کر رہی ہے۔ القاعدہ برصغیر کے امیر اسامہ محمود اور نائب امیر یحییٰ غوری کابل میں مقیم ہیں، جو جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کے بڑے نیٹ ورک کی نگرانی کر رہے ہیں۔ دوسری جانب داعش خراسان نے بھی شمالی افغانستان اور پاک افغان سرحدی علاقوں میں اپنی آپریشنل صلاحیتیں برقرار رکھی ہیں، جو سرحد پار حملوں کی صلاحیت رکھتی ہے۔

وسطی ایشیا اور چین کے لیے خطرات
رپورٹ میں تحریکِ اسلامی مشرقی ترکستان اور اسلامی تحریکِ ترکستان نامی شدت پسند تنظیم کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ بدخشاں کے علاقے میں ان کے کیمپوں میں اضافہ ہوا ہے۔ طالبان نے ان کے تقریباً 250 ارکان کو باقاعدہ اپنی پولیس فورس میں شامل کر لیا ہے، جو نہ صرف انہیں قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے بلکہ ان کی فنڈنگ کے لیے خشخاش کی کاشت اور کان کنی جیسے ذرائع بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔ وسطی ایشیائی ممالک نے اس صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے اپنی قومی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ قرار دیا ہے۔

اقوام متحدہ کی یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی تنازعات اور دہشت گردی کے واقعات کے باعث کشیدگی عروج پر ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ رپورٹ عالمی سطح پر طالبان حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایک اہم دستاویز ثابت ہوگی۔

دیکھیے: ٹی ٹی پی کا منحرف ارکان کو قتل کرنے کا حکم

متعلقہ مضامین

امریکہ ایران تنازع میں جہاں دونوں فریق ایک دوسرے پر معاہدہ سبوتاژ کرنے کا الزام لگا رہے ہیں، وہیں اصل قیمت خطے کے وہ ممالک چکا رہے ہیں جن کا اس جنگ سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں۔

July 18, 2026

اسلام آباد میں منعقدہ پاک چین بزنس کانفرنس میں فارماسیوٹیکل شعبے کے مابین 44 کروڑ ڈالرز مالیت کے 9 معاہدے طے پا گئے، جس کے تحت ٹیکنالوجی منتقل اور مقامی طور پر ویکسین تیار ہوگی۔

July 17, 2026

افغانستان کے صوبے بدخشاں میں طالبان مخالف مزاحمتی گروہ نے ایک بڑی کارروائی کے دوران ضلع یفتل کا کنٹرول حاصل کر کے وہاں موجود اسلحہ اور فوجی سازوسامان اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔

July 17, 2026

کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا کشمیری رہنماؤں پر براہ راست حملہ؛ باغ میں سابق وزیر اعظم سردار تنویر الیاس پر فائرنگ کر کے گن مین کو شہید کر دیا۔

July 17, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *