پاکستان میں ‘انڈس اے آئی ہفتہ’ کے کامیاب انعقاد اور اس کے مقابلے میں بھارت میں ہونے والی ‘اے آئی سمٹ’ کی انتظامی بدحالی نے دونوں ممالک کے ٹیکنالوجی انفراسٹرکچر اور تنظیمی صلاحیتوں کے فرق کو واضح کر دیا ہے۔ جہاں پاکستان میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی پالیسی سازی اور مستقبل کے لائحہ عمل پر سنجیدہ گفتگو خبروں کی زینت رہی، وہاں بھارت میں اس اہم ایونٹ کی کہانی محض ناقص لاجسٹکس اور بدنظمی تک محدود ہو کر رہ گئی۔
دہلی میں منعقدہ اے آئی سمٹ کے دوران صورتحال اس وقت خراب ہوئی جب باقاعدہ رجسٹریشن کروانے والے طلبہ کو داخلے سے روک دیا گیا اور صبح سے قطاروں میں کھڑے شرکاء کے لیے دروازے اچانک بند کر دیے گئے۔ سمٹ کے دوران بدانتظامی میں اس حد تک اضافہ ہوا کہ دوپہر کے وقت بوتھ خالی کروا لیے گئے، جبکہ عالمی سطح پر سبکی اس وقت ہوئی جب ‘اے آئی سمٹ’ کے دوران انٹرنیٹ ہی فیل ہو گیا۔ مزید برآں ایک اسٹارٹ اپ بانی نے دعویٰ کیا کہ ان کا قیمتی سامان محفوظ ترین مقام سے غائب ہو گیا، جس پر بھارتی وزیرِ آئی ٹی کو دوسرے روز عوامی سطح پر معافی مانگنی پڑی۔ سوشل میڈیا پر ان ناکامیوں کے خلاف شرکاء کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔
اس کے برعکس پاکستان میں ‘انڈس اے آئی ہفتہ’ کے دوران تمام سیشنز انتہائی منظم اور رواں انداز میں جاری رہے۔ یہاں نہ تو وائی فائی سے متعلق کوئی شکایت سامنے آئی اور نہ ہی شرکاء یا طلبہ کو کسی قسم کے لاجسٹک چیلنج یا اخراج کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستانی ایونٹ میں ماہرین، مقررین اور شرکاء کی توجہ مکمل طور پر اے آئی ٹیکنالوجی اور اس کے نفاذ پر رہی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب بھارت کو ہجوم پر قابو پانے میں دشواری ہو رہی تھی، پاکستان نے ایک پیچیدہ ٹیکنالوجی ایونٹ کو بہترین نظم و ضبط کے ساتھ انجام دے کر ثابت کیا کہ وہ محض تاثر بنانے کے بجائے عملی نفاذ پر یقین رکھتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال ثابت کرتی ہے کہ بھارت محض کھوکھلے دعوؤں تک محدود ہے؛ جس طرح اسے ماضی میں دفاعی میدان میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، بعنیہ اسی طرح اب وہ ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے محاذ پر بھی ناکامی کا سامنا کر رہا ہے۔ جب بھارت کو ہجوم پر قابو پانے میں دشواری ہو رہی تھی، پاکستان نے ایک پیچیدہ ٹیکنالوجی ایونٹ کو بہترین نظم و ضبط کے ساتھ انجام دے کر ثابت کیا کہ وہ محض پروپیگنڈا کرنے کے بجائے عملی نفاذ اور تکنیکی برتری کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
دیکھیے: چناب پر بھارتی ڈیم سازی: فارن پالیسی نے ترقی کے نام پر تباہی بے نقاب کر دی