اسلام آباد کی ایک عدالت میں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران ایک غیر معمولی صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ایک یورپی سفارتکار کمرۂ عدالت میں موجود پایا گیا۔
عدالت میں زیرِ سماعت مقدمہ مبینہ طور پر دہشت گردی کی تعریف و تمجید سے متعلق الزامات پر مشتمل ہے۔ سماعت کے دوران معزز جج نے سفارتکار کی موجودگی کا نوٹس لیتے ہوئے استفسار کیا کہ وہ ایسے مقدمے میں کیوں دلچسپی لے رہے ہیں جس کا تعلق حساس نوعیت کے الزامات سے ہے۔
An EU diplomat showed up at the Iman Mazari & Hadi Chatha hearing… the honorable judge asked why he cared about a case on glorifying terrorism?? and he ran for the door! 😂 pic.twitter.com/y2JEnTf0Cr
— Open Secrets (@OpenSecrets7Ave) February 20, 2026
عدالتی ذرائع کے مطابق جج کے سوال پر سفارتکار نے مختصر گفتگو کے بعد کمرۂ عدالت چھوڑ دیا۔ واقعے کے بعد عدالتی کارروائی معمول کے مطابق جاری رہی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض اوقات غیر ملکی سفارتی نمائندے اہم یا حساس مقدمات کی سماعت کا مشاہدہ کرنے کے لیے عدالتوں میں موجود ہوتے ہیں، تاہم اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے خلاف مقدمے کی مزید سماعت آئندہ تاریخ پر مقرر کر دی گئی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق کیس کے قانونی پہلوؤں اور شواہد کا جائزہ آئندہ پیشیوں میں لیا جائے گا۔
دیکھیے: افغانستان میں قندھاری اور حقانی دھڑوں میں پراکسی جنگ کی تیاریاں