افغانستان میں میڈیا رپورٹس کے ذریعے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ کابل میں پاکستانی ویزے بلیک مارکیٹ میں فروخت ہو رہے ہیں۔ ان الزامات کے تناظر میں پاکستان کا مؤقف ہے کہ ملک کا ویزا اجراء کا نظام اب مکمل طور پر جدید اور مرکزی نوعیت کا ہے، جو کسی بھی قسم کی غیر رسمی مداخلت کے امکان کو ختم کر دیتا ہے۔
حال ہی میں افغان ناٹرنیشنل نے دعوی کیا ہے کہ کابل میں پاکستانی ویزے ایک ہزار سے پندرہ سو ڈالر تک بلیک مارکیٹ میں فروخت ہو رہے ہیں، جو سرکاری فیس سے کہیں زیادہ ہے۔ اگرچہ ایسے دعوے تشویش کا باعث ہو سکتے ہیں، تاہم پاکستان کا ڈیجیٹل نظام خاص طور پر اسی نوعیت کی بدعنوانی کی سختی سے تردید کرتا ہے۔
ڈیجیٹل نظام اور شفافیت
پاکستان میں ویزا کا موجودہ نظام الیکٹرانک ریکارڈ اور بائیومیٹرک شناخت سے منسلک ہے، جو ایک شفاف عمل درآمد کو یقینی بناتا ہے۔ آن لائن درخواستوں کی وصولی کے باعث کسی بھی سطح پر صوابدیدی برتاؤ کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ سرکاری پورٹل کے ذریعے فیس کی ادائیگی نقد لین دین اور غیر مجاز درمیانی افراد کے اثر و رسوخ کی روک تھام کرتی ہے۔
خودکار اسکریننگ اور نگرانی
ویزا منظوری کا عمل اب خودکار سکیورٹی اسکریننگ اور ڈیٹا بیس کے باہمی انضمام پر مبنی ہے۔ یہ کثیر سطحی تصدیقی نظام یقینی بناتا ہے کہ ہر درخواست آڈٹ کے تقاضوں کے مطابق جانچی جائے۔ بایومیٹرک تصدیق اور مرکزی نگرانی کے باعث شناخت میں رد و بدل یا کسی بھی غیر مجاز کارروائی کا تدارک ممکن بنایا گیا ہے۔
بدعنوانی کا تدارک
میڈیا رپورٹس میں نجی ٹریول ایجنسیوں کے حوالے سے سامنے آنے والے الزامات پر ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر نجی افراد زائد وصولی میں ملوث ہیں تو اس کا تدارک قانونی دائرہ کار میں ہونا چاہیے۔ پاکستان نے ہمیشہ زور دیا ہے کہ درخواست گزار صرف سرکاری آن لائن پورٹل کا استعمال کریں تاکہ کسی بھی دھوکہ دہی سے بچا جا سکے۔
واضح رہے کہ پاکستان نے اپنی ویزا پالیسی کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کر دیا ہے تاکہ مستحق درخواست گزاروں کو سہولت فراہم کی جائے اور نظام کی سالمیت کو برقرار رکھا جائے۔