بلوچستان کے ضلع آواران سے تعلق رکھنے والی نوجوان طالبہ ثانیہ کی گمشدگی کے معاملے میں ایک اہم اور افسوسناک موڑ سامنے آیا ہے۔ ثانیہ کے والد نے ایک پر ہجوم پریس کانفرنس کے دوران اپنی بیٹی سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ان کی بیٹی تخریبی گروہوں کے پروپیگنڈے کا شکار ہو کر غلط راستے پر نکل گئی ہے۔
دباؤ اور ورغلانے کا انکشاف
ثانیہ جو 30 دسمبر 2025 سے لاپتہ ہے، کے خاندان کا دعویٰ ہے کہ بی ایل اے اور بی وائی سی جیسے گروہ نوجوان طالبات کو نفسیاتی دباؤ، جھوٹے نعروں اور جذباتی ورغلاؤ کے ذریعے اپنے جال میں پھنساتے ہیں۔ خاندان کے مطابق، ان گروہوں کا مقصد نوجوان لڑکیوں کو ریاست مخالف سرگرمیوں اور اپنے مخصوص سیاسی و عسکری ایجنڈے کے لیے استعمال کرنا ہے۔
آواران کی نوجوان طالبہ ثانیہ 30 دسمبر 2025 سے لاپتہ ہے۔ خاندان کے مطابق، BLA اور BYC جیسے گروہ نوجوان لڑکیوں کو نفسیاتی دباؤ، ورغلاؤ اور جھوٹے نعروں کے ذریعے اپنے جال میں پھنسا کر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آج اس کے والد نے پریس کانفرنس کے دوران بیٹی سے مکمل… pic.twitter.com/jm0U1kGMc4
— Faisal Khan Achakzai (@FaisalKAchakzai) February 20, 2026
لاتعلقی کا اعلان
پریس کانفرنس کے دوران ثانیہ کے والد نے انتہائی رنجیدہ لہجے میں کہا کہ ان کی بیٹی نے خاندان کی روایات اور والدین کی تربیت کے برخلاف ان گروہوں کا انتخاب کیا جو بلوچستان کے امن کے دشمن ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس عمل کے بعد ان کا ثانیہ سے کوئی تعلق باقی نہیں رہا۔ سماجی ماہرین اس واقعے کو بلوچ معاشرے میں بڑھتے ہوئے اس رجحان کے طور پر دیکھ رہے ہیں جہاں خاندان اب اپنے بچوں کو دہشت گرد تنظیموں کے آلہ کار بننے سے بچانے کے لیے کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔
بلوچ خواتین کے تحفظ کی اپیل اس واقعے نے سوشل میڈیا پر بھی ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، جہاں #BalochFamiliesAgainstExploitation اور #ProtectBalochWomenFromTerror جیسے ہیش ٹیگز کے ذریعے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ بلوچ خواتین کو ان گروہوں کے منفی اثرات سے محفوظ رکھا جائے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں کی طالبات کو نشانہ بنانا ان تنظیموں کی اخلاقی دیوالیہ پن کا منہ بولتا ثبوت ہے، جو معصوم ذہنوں کو برین واش کر کے انہیں اپنے ہی خاندانوں کے خلاف کھڑا کر رہی ہیں۔