پاکستان امریکہ نے نیویارک میں واقع تاریخی ’’روزویلٹ ہوٹل‘‘ کی آپریشنل بحالی، تجدید اور ترقی کے لیے ایک بڑے اسٹریٹجک منصوبے کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے ہیں۔ اس تاریخی معاہدے کے تحت امریکی ‘جنرل سروسز ایڈمنسٹریشن’ نیویارک کے قلب میں واقع اس ہوٹل کی آپریشنل بحالی، تجدیدِ نو اور دوبارہ ترقی کی ذمہ دار ہوگی، جس سے ایک عرصے سے بند اور نقصان کا باعث بننے والا یہ اثاثہ اب ایک منظم اور آمدنی پیدا کرنے والے منصوبے میں تبدیل ہو جائے گا۔
امریکی مہارت اور انتظامی تعاون
پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کی ملکیت میں موجود یہ ہوٹل مین ہٹن کے پرائم مڈ ٹاؤن میں گرینڈ سینٹرل ٹرمینل کے قریب ترین واقع ہے۔ اس پیچیدہ رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں زوننگ، قانونی منظوریوں اور نفاذ کے خطرات کو سنبھالنے کے لیے پاکستان اب براہِ راست امریکی ادارہ جاتی مہارت سے فائدہ اٹھائے گا۔ وفاقی سطح پر امریکی حکام کے ساتھ یہ تعاون نہ صرف منصوبے کی تکمیل میں غیر یقینی صورتحال کو کم کرے گا بلکہ عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بھی اضافہ کرے گا۔
غیر فعال سے فعال حکمتِ عملی کی جانب قدم
یہ معاہدہ پاکستان کی بیرونِ ملک املاک کے حوالے سے پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ حکومت اب غیر فعال ملکیت کے بجائے پیشہ ورانہ طور پر منظم اور دوبارہ ترقیاتی حکمتِ عملی پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد مین ہٹن کے اس قیمتی مقام سے طویل مدتی ڈالر کی بنیاد پر منافع حاصل کرنا اور جائیداد کی تجارتی قدر کو زیادہ سے زیادہ بڑھانا ہے۔
اقتصادی سفارت کاری کا نیا رخ
تجزیہ نگار اس منصوبے کو پاکستان کی کامیاب اقتصادی سفارت کاری قرار دے رہے ہیں، جہاں رئیل اسٹیٹ کے حصول کو بین الاقوامی تعاون کے ساتھ ہم آہنگ کیا گیا ہے۔ امریکی حمایت اور منظم اشتراکِ عمل کے ساتھ، پاکستان اب اس پوزیشن میں آ گیا ہے کہ وہ روزویلٹ ہوٹل کو ایک تجارتی طور پر قابلِ عمل اور زیادہ منافع بخش جائیداد بنا سکے۔ یہ منصوبہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان نہ صرف اپنے اسٹریٹجک اثاثوں کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے بلکہ انہیں پائیدار اقتصادی منافع میں بدلنے کی بھرپور صلاحیت بھی رکھتا ہے۔