روسی وزارتِ خارجہ نے فروری 2026 کی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان میں اس وقت بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کے تقریباً 20 سے 23 ہزار جنگجو موجود ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان جنگجوؤں میں سے نصف سے زائد کا تعلق غیر ملکی ممالک سے ہے، جو خطے کے امن و امان کے لیے ایک سنگین چیلنج بنے ہوئے ہیں۔
روسی حکام کے اعداد و شمار کے مطابق افغانستان میں سرگرم بڑے گروہوں میں تحریک طالبان پاکستان کے 5 سے 7 ہزار اور داعش کے تقریباً 3 ہزار جنگجو شامل ہیں۔ اس کے علاوہ القاعدہ کے 400 سے 1500، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ کے 300 سے 1200 اور اسلامک موومنٹ آف ازبکستان کے 500 تک جنگجو مختلف علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی کی تمام تر توجہ پاکستان میں حملوں پر مرکوز ہے، جس کے باعث کابل اور اسلام آباد کے تعلقات میں پیچیدگی پیدا ہو رہی ہے۔
ماسکو کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ داعش خراسان واحد تنظیم ہے جو موجودہ افغان حکومت کے خلاف براہِ راست برسرِ پیکار ہے۔ اگرچہ طالبان کی جانب سے داعش کے خلاف سخت اقدامات کے نتیجے میں گزشتہ ڈیڑھ برس میں حملوں کی شدت میں کمی آئی ہے، تاہم یہ گروہ اب بھی سابق سکیورٹی اہلکاروں کو مالی معاونت کے ذریعے بھرتی کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ داعش کے تربیتی کیمپ ملک کے مشرقی اور شمالی حصوں میں موجود ہیں، جن کا طویل المدتی ہدف وسطی ایشیا تک اپنی نام نہاد خلافت کا پھیلاؤ ہے۔
افغانستان کی سماجی و سیاسی صورتحال کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خراب معاشی حالات، قدرتی آفات اور پوست کی کاشت پر پابندی کے باعث متبادل فصلوں کی عدم دستیابی نے عدم استحکام میں اضافہ کیا ہے۔ منشیات کے حوالے سے اقوام متحدہ کے تعاون سے تیار کردہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2025 میں پوست کے زیرِ کاشت رقبے میں 20 فیصد کمی آئی اور افیون کی پیداوار 296 ٹن رہی، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 32 فیصد کم ہے۔ تاہم میتھ ایمفیٹامین جیسی مصنوعی منشیات کی اسمگلنگ میں اضافہ بدستور تشویش کا باعث ہے۔
رپورٹ کے اختتام پر افغان مسلح اپوزیشن کا جائزہ لیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ اور افغان فریڈم فرنٹ جیسے گروہ جغرافیائی طور پر محدود اور منقسم ہیں، اس لیے وہ فی الوقت طالبان حکومت کے اقتدار کے لیے کوئی بڑا خطرہ ثابت نہیں ہو سکتے۔
دیکھیے: طالبان حکومت کے خلاف ”افغانستان انڈیپینڈس فرنٹ” کے نام سے نئی مزاحمتی تحریک منظر عام پر آگئی