حکومتی ترجمانوں اور قانونی ماہرین نے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں وی آئی پی کلچر کے خاتمے اور قانون کی حکمرانی کے لیے اداروں کا احترام ناگزیر ہے۔ حالیہ عدالتی کارروائیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جو لوگ دوسروں کو دن رات قانون کا بھاشن دیتے تھے، اب اپنی باری آنے پر انہیں عدالتیں اور قانون برے لگنے لگے ہیں۔
ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا پر انقلاب کے بلند و بالا دعوے کرنے والی شخصیات عدالتی کے بلانے پر حاضر ہونے کے بجائے روپوشی اختیار کر رہی ہیں۔ قانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ عدالت میں پیش نہ ہونے پر وارنٹِ گرفتاری جاری ہونا ایک بالکل درست اور آئینی فیصلہ ہے، کیونکہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔ مزید برآں یہ مؤقف اپنایا گیا ہے کہ بھائی کی بیماری کا سہارا لے کر اپنی گرفتاری سے بچنے کی کوشش کرنا محض ایک قانونی بہانہ ہے، جس کی ریاست میں کوئی گنجائش نہیں۔ جو لوگ خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں، عدالت نے وارنٹ جاری کر کے انہیں ان کی اصل جگہ دکھا دی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ جیلیں محض جذباتی نعروں یا ٹی وی بیانیوں سے نہیں بھرتیں، بلکہ حقیقت پسندانہ سیاسی فیصلوں سے ہی مستقبل کے راستے بنتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے حوالے سے یہ بیانیہ سامنے آیا ہے کہ اتحاد سے انکار، مسلسل محاذ آرائی کی سیاست اور پوری جماعت کو صرف ایک شخصیت کی انا تک محدود کرنا وہ عوامل تھے جنہوں نے عمران خان کے لیے سیاسی آپشنز کو کم کر دیا ہے۔ پاکستان اب مزید کسی “انا کی سیاست” کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
بیانیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ایک طرف کارکنوں کو ایک ہی فرضی کہانی سنائی جا رہی ہے تو دوسری طرف اسی صورتحال میں پارٹی کے اندر کئی لوگ اپنا سیاسی قد، شہرت اور ذاتی مفادات حاصل کرنے میں مصروف ہیں۔ اس تمام سیاسی عدم استحکام میں اصل نقصان ملک کا ہو رہا ہے، جسے نعروں کی نہیں بلکہ مہنگائی، روزگار اور معاشی استحکام کے لیے سنجیدہ اور مشترکہ قیادت کی ضرورت ہے۔
حکومت نے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ قانون کی حکمرانی، اداروں کے احترام اور سیاسی مکالمے پر پختہ یقین رکھتی ہے۔ ہماری تاریخ کا سبق واضح ہے کہ قومیں اجتماعی دانش سے آگے بڑھتی ہیں، ذاتی جنگوں سے نہیں۔ پاکستان کی موجودہ ضرورت تصادم نہیں بلکہ سیاسی اور معاشی استحکام ہے۔