یوناما کی جانب سے افغانستان کے ننگرہار اور پکتیکا کے علاقوں میں ہونے والے مبینہ فضائی حملوں پر جاری کردہ رپورٹ کو ماہرین نے شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے یکطرفہ اور غیر مستند قرار دیا ہے۔ یوناما نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ 21 اور 22 فروری کی درمیانی شب ہونے والے ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 13 شہری ہلاک ہوئے، تاہم یہ رپورٹ مشن کی ساکھ پر کئی سوالات کھڑے کر رہی ہے۔
دفاعی اور سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ یوناما کی یہ رپورٹ زمینی حقائق سے مکمل طور پر منافی ہے۔ رپورٹ میں ان دہشت گرد گروہوں کا کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا جو ان علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور سرحد پار دہشت گردی کی کاروائیوں میں ملوث ہیں۔ سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ یوناما کے پاس ایسا کون سا نظام ہے جس کے ذریعے وہ دشوار گزار علاقوں میں دہشت گردوں اور شہریوں کے درمیان تمیز کرتا ہے؟ یا پھر یہ ادارہ محض طالبان کے ترجمان کے طور پر کام کر رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یوناما کا یہ طریقہ کار کہ وہ طالبان کے فراہم کردہ من گھڑت اعداد و شمار کو عالمی رپورٹ کا حصہ بنا دے، اس کے غیر جانبدارانہ کردار کو مشکوک بناتا ہے۔ پکتیکا میں جن مقامات کو یوناما نے مدرسہ یا مسجد قرار دیا ہے، وہاں دہشت گرد عناصر کی موجودگی اور ان کی جانب سے سویلین ڈھانچوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنا ایک کھلی حقیقت ہے، جسے رپورٹ میں دانستہ طور پر نظرانداز کیا گیا ہے۔
ناقدین کا مزید کہنا ہے کہ بین الاقوامی اداروں کو ایسی جانبدارانہ رپورٹنگ سے گریز کرنا چاہیے جو دہشت گردی کے خلاف جاری عالمی کوششوں کو کمزور کرے۔ یوناما کی رپورٹ میں ان وجوہات کا ذکر نہ ہونا، جن کی بنا پر یہ کاروائیاں ناگزیر ہوتی ہیں، ثابت کرتا ہے کہ یہ رپورٹ حقیقت پر مبنی ہونے کے بجائے ایک مخصوص سیاسی ایجنڈے کو تقویت دینے کی کوشش ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ افغانستان میں غیر شمولیتی اور جبر پر مبنی نظام کی موجودگی میں عالمی اداروں کا یکطرفہ بیانیہ خطے کے استحکام کے لیے مزید خطرات پیدا کر سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بین الاقوامی ادارے طالبان کے بیانیے کی تشہیر کرنے کے بجائے غیر جانبدارانہ تحقیقات اور سچائی کو ترجیح دیں۔