بلوچستان میں لاپتہ افراد کے حوالے سے دہائیوں سے جاری پروپیگنڈے کو اس وقت بے نقاب ہوا جب بلوچ لبریشن آرمی نے سلیم بلوچ نامی شخص کو اپنا کمانڈر قرار دے کر اس کی ہلاکت پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ یہ وہی سلیم بلوچ ہے جسے بلوچ یکجہتی کونسل اور پانک جیسے گروہ برسوں سے “لاپتہ شخص” قرار دے کر سکیورٹی فورسز کے خلاف مہم چلا رہے تھے۔
سفارتی اور سکیورٹی ماہرین کے مطابق سلیم بلوچ کی حقیقت سامنے آنے سے یہ واضح ثبوت مل گیا ہے کہ “لاپتہ افراد” کا بیانیہ دراصل بی وائی سی اور پانک جیسی تنظیموں کی جانب سے اپنی سرپرست دہشت گرد تنظیموں بی ایل اے اور بی ایل ایف کو قانونی و عوامی تحفظ فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس انکشاف نے ان تنظیموں کے اس جھوٹے بیانیے کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکا ہے جس کے ذریعے عالمی برادری اور مقامی عوام کو گمراہ کیا جاتا رہا ہے۔
اس صورتحال کے پیشِ نظر بلوچستان حکومت اور سکیورٹی فورسز نے انتہائی سخت موقف اختیار کر لیا ہے۔ حکام کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ اب “لاپتہ افراد” کے لبادے میں دہشت گردی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومت نے انتباہ جاری کیا ہے کہ اگر کسی خاندان کا کوئی فرد دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہے تو اس کی فوری اطلاع حکام کو دی جائے، بصورتِ دیگر اس فیملی کے خلاف بھی قانونی ایکشن لیا جائے گا کیونکہ علم ہونے کے باوجود اطلاع نہ دینا جرم کی معاونت کے زمرے میں آتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سلیم بلوچ کے واقعے نے ثابت کر دیا ہے کہ ریاست کے خلاف برسرِ پیکار عناصر انسانی حقوق کی تنظیموں کا لبادہ اوڑھ کر اپنے مجرمانہ ایجنڈے کو چھپاتے ہیں۔ اس جھوٹے بیانیے کے بے نقاب ہونے کے بعد اب عوامی سطح پر بھی ان تنظیموں کے کردار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جو لاپتہ افراد کے نام پر دہشت گردی کی سہولت کاری میں ملوث ہیں۔