لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

پاکستانی ایئر اسٹرائیک کے بعد سینکڑوں زخمی خوارج کی کابل منتقلی کی اطلاعات

مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ القاعدہ اور داعش سے وابستہ بعض زخمی افراد کو بھی کابل کے فوجی اسپتال، جسے اردو نظامی اسپتال کہا جاتا ہے، منتقل کیا گیا ہے۔ انہی ذرائع کے مطابق سرحدی جھڑپوں میں طالبان کے بارڈر گارڈز کے بعض اہلکار بھی زخمی ہوئے جنہیں فوجی طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
پاکستانی ایئر اسٹرائیک کے بعد سینکڑوں زخمی خوارج کی کابل منتقلی کی اطلاعات

دوسری جانب پاکستانی حکام نے حالیہ کارروائیوں کو سرحد پار دہشت گرد ٹھکانوں کے خلاف ہدفی آپریشن قرار دیا ہے، تاہم ان مخصوص دعوؤں پر سرکاری سطح پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

February 24, 2026

ذرائع کے مطابق دو روز قبل مبینہ پاکستانی ایئر اسٹرائیک میں زخمی ہونے والے کالعدم تنظیموں سے وابستہ افراد کو طالبان فورسز نے سخت سکیورٹی میں خفیہ طور پر کابل منتقل کیا ہے۔ یہ دعویٰ کابل میں موجود ذرائع کے حوالے سے سامنے آیا ہے، تاہم اس بارے میں افغان حکام کی جانب سے باضابطہ تصدیق یا تردید جاری نہیں کی گئی۔

اطلاعات کے مطابق زخمیوں کو گاڑیوں کے قافلوں کی صورت میں کابل لایا گیا، جہاں بعض بڑے سرکاری اسپتالوں میں خصوصی انتظامات کیے گئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ زخمیوں کو وزیر محمد اکبر خان اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ گل بہادر گروپ سے منسلک افراد کو علی آباد ٹیچنگ اسپتال میں رکھا گیا ہے۔

مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ القاعدہ اور داعش سے وابستہ بعض زخمی افراد کو بھی کابل کے فوجی اسپتال، جسے اردو نظامی اسپتال کہا جاتا ہے، منتقل کیا گیا ہے۔ انہی ذرائع کے مطابق سرحدی جھڑپوں میں طالبان کے بارڈر گارڈز کے بعض اہلکار بھی زخمی ہوئے جنہیں فوجی طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ زخمیوں کی ایک بڑی تعداد کو خوست اور جلال آباد کے صوبائی اسپتالوں میں رکھا گیا ہے اور ان تمام مقامات پر غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ مبینہ طور پر متعلقہ وارڈز تک عام مریضوں یا غیر متعلقہ افراد کی رسائی محدود کر دی گئی ہے، جبکہ طبی عملے کے لیے بھی سخت قواعد نافذ کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب پاکستانی حکام نے حالیہ کارروائیوں کو سرحد پار دہشت گرد ٹھکانوں کے خلاف ہدفی آپریشن قرار دیا ہے، تاہم ان مخصوص دعوؤں پر سرکاری سطح پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ان اطلاعات کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ پاک افغان کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتی ہیں۔

دیکھیے: افغانستان میں طالبان کی نسلی اجارہ داری علاقائی عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے: ڈاکٹر ابراہیم المراشی

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *