ذرائع کے مطابق دو روز قبل مبینہ پاکستانی ایئر اسٹرائیک میں زخمی ہونے والے کالعدم تنظیموں سے وابستہ افراد کو طالبان فورسز نے سخت سکیورٹی میں خفیہ طور پر کابل منتقل کیا ہے۔ یہ دعویٰ کابل میں موجود ذرائع کے حوالے سے سامنے آیا ہے، تاہم اس بارے میں افغان حکام کی جانب سے باضابطہ تصدیق یا تردید جاری نہیں کی گئی۔
اطلاعات کے مطابق زخمیوں کو گاڑیوں کے قافلوں کی صورت میں کابل لایا گیا، جہاں بعض بڑے سرکاری اسپتالوں میں خصوصی انتظامات کیے گئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ زخمیوں کو وزیر محمد اکبر خان اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ گل بہادر گروپ سے منسلک افراد کو علی آباد ٹیچنگ اسپتال میں رکھا گیا ہے۔
مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ القاعدہ اور داعش سے وابستہ بعض زخمی افراد کو بھی کابل کے فوجی اسپتال، جسے اردو نظامی اسپتال کہا جاتا ہے، منتقل کیا گیا ہے۔ انہی ذرائع کے مطابق سرحدی جھڑپوں میں طالبان کے بارڈر گارڈز کے بعض اہلکار بھی زخمی ہوئے جنہیں فوجی طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ زخمیوں کی ایک بڑی تعداد کو خوست اور جلال آباد کے صوبائی اسپتالوں میں رکھا گیا ہے اور ان تمام مقامات پر غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ مبینہ طور پر متعلقہ وارڈز تک عام مریضوں یا غیر متعلقہ افراد کی رسائی محدود کر دی گئی ہے، جبکہ طبی عملے کے لیے بھی سخت قواعد نافذ کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب پاکستانی حکام نے حالیہ کارروائیوں کو سرحد پار دہشت گرد ٹھکانوں کے خلاف ہدفی آپریشن قرار دیا ہے، تاہم ان مخصوص دعوؤں پر سرکاری سطح پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ان اطلاعات کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ پاک افغان کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتی ہیں۔