دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ ہو یا معاشی محاذ پر درپیش چیلنجز، اس قوم نے فقر کی اسی سان پر اپنی خودی کو چمکایا جس کا خواب اقبال نے دیکھا تھا۔ آج ہم دنیا میں امن کے ضامن بھی ہیں اور وقت پڑنے پر بنیانِ مرصوص بھی۔

April 21, 2026

سابق افغان وزیراعظم گلبدین حکمت یار نے طالبان حکومت کو مسترد کرتے ہوئے ملک میں فوری انتخابات اور آئینی اصلاحات کا مطالبہ کر دیا ہے۔

April 21, 2026

امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ کم کرنے کے لیے مذاکرات کا اہم دور کل اسلام آباد میں شروع ہوگا؛ معاہدے کی صورت میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شرکت کا بھی امکان ہے۔

April 21, 2026

وزارت کے ترجمان عبدالمطلب حقانی کے مطابق پاکستان سے 13 ہزار 834، ایران سے 823 اور ترکیہ سے 19 خاندان واپس آئے ہیں، جبکہ 32 ہزار 295 افراد کو جبری طور پر ملک بدر کیا گیا ہے۔

April 21, 2026

مقبوضہ کشمیر کے ضلع ادھم پور میں مسافر بس کھائی میں گرنے سے 21 افراد جاں بحق اور 45 زخمی ہو گئے؛ بس میں گنجائش سے زائد مسافر سوار تھے۔

April 21, 2026

شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال کے 88 ویں یومِ وفات پر صدر اور وزیراعظم نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی ترقی اور انتہاء پسندی کے خاتمے کے لیے فکرِ اقبال کو عملی طور پر اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

April 21, 2026

پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا کا دوہرا معیار؛ انسانی ہمدردی بھی سیاسی وابستگی کی نذر

پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ونگ کا اخلاقی بحران؛ محترمہ نورین اور صدف کے لیے ہمدردی مگر مخالفین کے لیے تضحیک، سیاسی وابستگی کی بنیاد پر بدلتے ہوئے انسانی معیارات
پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ونگ کا اخلاقی بحران؛ محترمہ نورین اور صدف کے لیے ہمدردی مگر مخالفین کے لیے تضحیک، سیاسی وابستگی کی بنیاد پر بدلتے ہوئے انسانی معیارات

پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ وہاں ہمدردی کا حقدار صرف اسے سمجھا جاتا ہے جو ان کے سیاسی نظریے سے ہم آہنگ ہو

February 25, 2026

پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال میں جہاں اخلاقی اقدار اور سیاسی بیانیہ ایک دوسرے سے متصادم نظر آتے ہیں، وہیں پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ونگ کی جانب سے اپنائے جانے والے ‘دوہرے معیار’ نے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں محترمہ نورین اور صدف کے ساتھ پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات پر اگرچہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہر طبقہ رنجیدہ ہے، تاہم پی ٹی آئی کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اس واقعے کو جس انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، وہ ایک گہرے تضاد کی عکاسی کرتا ہے۔

سماجی مبصرین کا کہنا ہے کہ خواتین کی عزت اور وقار کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے اور اس کا تحفظ کسی سیاسی انتخاب یا پارٹی وابستگی کا محتاج نہیں ہونا چاہیے۔ نورین اور صدف کے ساتھ ہونے والے معاملے پر ہمدردی کا اظہار کرنا ہر شہری کا اخلاقی فرض ہے، لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہی معیار تمام خواتین کے لیے یکساں ہے؟

پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ وہاں ہمدردی کا حقدار صرف اسے سمجھا جاتا ہے جو ان کے سیاسی نظریے سے ہم آہنگ ہو۔تجزیہ کاروں نے اس تلخ حقیقت کی جانب اشارہ کیا ہے کہ اگر بعینہٖ یہی واقعہ پی ٹی آئی کے کسی سیاسی مخالف یا ان کے ناقدین کے ساتھ پیش آیا ہوتا تو سوشل میڈیا پر موجود وہی آوازیں جو آج ہمدردی کا تقاضا کر رہی ہیں، جشن مناتی ہوئی نظر آتیں۔

یہ رویہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ پی ٹی آئی کے حامیوں کے لیے عزت کے پیمانے سیاسی وفاداری کے ساتھ تبدیل ہو جاتے ہیں۔ مخالفین کی خواتین کی تذلیل، ان کی نجی زندگیوں پر حملے اور ان کی کردار کشی کو پی ٹی آئی کے ڈیجیٹل سیلز میں اکثر ‘سیاسی فتح’ کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے، جو کہ ایک خطرناک معاشرتی رجحان ہے۔

یہ دوہرا معیار نہ صرف سیاسی فضا کو زہریلا بنا رہا ہے بلکہ انسانیت کی ان مشترکہ اقدار کو بھی کھوکھلا کر رہا ہے جو ایک پرامن معاشرے کے لیے ناگزیر ہیں۔ محترمہ نورین اور صدف کے معاملے پر ہمدردی کا اظہار کرنے والی قیادت اور کارکنوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اخلاقیات کا کوئی ‘انتخابی متبادل’ نہیں ہوتا۔ جب تک سیاسی جماعتیں انسانی حقوق اور خواتین کے احترام کو اپنی مخصوص سیاسی عینک سے دیکھنا بند نہیں کریں گی، تب تک معاشرے میں حقیقی رواداری اور انصاف کا تصور ادھورا رہے گا۔

دیکھیے: سہیل آفریدی کے “عمران خان رہائی فورس” کے قیام کے اعلان نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی

متعلقہ مضامین

دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ ہو یا معاشی محاذ پر درپیش چیلنجز، اس قوم نے فقر کی اسی سان پر اپنی خودی کو چمکایا جس کا خواب اقبال نے دیکھا تھا۔ آج ہم دنیا میں امن کے ضامن بھی ہیں اور وقت پڑنے پر بنیانِ مرصوص بھی۔

April 21, 2026

سابق افغان وزیراعظم گلبدین حکمت یار نے طالبان حکومت کو مسترد کرتے ہوئے ملک میں فوری انتخابات اور آئینی اصلاحات کا مطالبہ کر دیا ہے۔

April 21, 2026

امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ کم کرنے کے لیے مذاکرات کا اہم دور کل اسلام آباد میں شروع ہوگا؛ معاہدے کی صورت میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شرکت کا بھی امکان ہے۔

April 21, 2026

وزارت کے ترجمان عبدالمطلب حقانی کے مطابق پاکستان سے 13 ہزار 834، ایران سے 823 اور ترکیہ سے 19 خاندان واپس آئے ہیں، جبکہ 32 ہزار 295 افراد کو جبری طور پر ملک بدر کیا گیا ہے۔

April 21, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *