پاک بحریہ نے مقامی طور پر تیار کردہ ‘تیمور’ ایئر لانچ کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کر کے اپنی آپریشنل تیاریوں کا طاقتور مظاہرہ کیا ہے۔

April 21, 2026

سعودی عرب میں بھارتی این ایس اے اجیت ڈوول کا تذلیل آمیز استقبال؛ اعلیٰ حکام کی عدم موجودگی نے بھارتی سفارتکاری کی ناکامی پر مہر ثبت کر دی۔

April 21, 2026

اسلام آباد میں بارودی مواد کی برآمدگی اور ٹریفک پابندیوں سے متعلق افغان پراپیگنڈا اکاؤنٹ کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔

April 21, 2026

دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ ہو یا معاشی محاذ پر درپیش چیلنجز، اس قوم نے فقر کی اسی سان پر اپنی خودی کو چمکایا جس کا خواب اقبال نے دیکھا تھا۔ آج ہم دنیا میں امن کے ضامن بھی ہیں اور وقت پڑنے پر بنیانِ مرصوص بھی۔

April 21, 2026

سابق افغان وزیراعظم گلبدین حکمت یار نے طالبان حکومت کو مسترد کرتے ہوئے ملک میں فوری انتخابات اور آئینی اصلاحات کا مطالبہ کر دیا ہے۔

April 21, 2026

امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ کم کرنے کے لیے مذاکرات کا اہم دور کل اسلام آباد میں شروع ہوگا؛ معاہدے کی صورت میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شرکت کا بھی امکان ہے۔

April 21, 2026

گلبدین حکمت یار کا طالبان حکومت تسلیم کرنے سے انکار، ملک میں فوری انتخابات کا مطالبہ

سابق افغان وزیراعظم گلبدین حکمت یار نے طالبان حکومت کو مسترد کرتے ہوئے ملک میں فوری انتخابات اور آئینی اصلاحات کا مطالبہ کر دیا ہے۔
سابق افغان وزیراعظم گلبدین حکمت یار نے طالبان حکومت کو مسترد کرتے ہوئے ملک میں فوری انتخابات اور آئینی اصلاحات کا مطالبہ کر دیا ہے۔

افغانستان کے سابق وزیراعظم گلبدین حکمت یار نے طالبان نظام کو عوامی مفادات کے منافی قرار دے دیا۔ انہوں نے ملک میں شفاف انتخابات اور شوریٰ کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔

April 21, 2026

افغانستان کے سابق وزیراعظم اور حزبِ اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار نے موجودہ طالبان حکومت کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے ملک میں شفاف انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کر دیا ہے۔ افغان میڈیا کے مطابق حکمت یار نے واضح کیا کہ افغانستان کے موجودہ حالات ہرگز عوامی امنگوں کے مطابق نہیں ہیں اور ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے فوری اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔

آئینی ڈھانچے کی عدم موجودگی پر اعتراض

سابق وزیراعظم نے طالبان قیادت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ نظام میں آئین اور شوریٰ جیسے بنیادی عناصر سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی پائیدار سیاسی استحکام کے لیے عوام کی رائے کو شامل کرنا ضروری ہے، بصورتِ دیگر ملک میں بے چینی اور غیر یقینی صورتحال مزید بڑھے گی۔ گلبدین حکمت یار کا کہنا تھا کہ موجودہ سیاسی ڈھانچہ افغان عوام کی حقیقی عکاسی کرنے میں ناکام رہا ہے۔

سیاسی جماعتوں کا ردِعمل

دوسری جانب افغان سیاسی جماعت ‘حزبِ وحدت اسلامی’ نے بھی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیرونِ ملک موجود سیاسی قائدین اس وقت تک واپس نہیں آئیں گے جب تک عوامی مینڈیٹ پر مبنی نظام قائم نہیں ہو جاتا۔ انہوں نے انتباہ جاری کیا کہ اگر حالات تبدیل نہ ہوئے تو مستقبل میں پیدا ہونے والے کسی بھی بڑے بحران کی تمام تر ذمہ داری طالبان پر عائد ہوگی۔

ماہرین کی رائے

سیاسی مبصرین کے مطابق، طالبان حکومت کے آمرانہ رویے اور سخت گیر پالیسیوں کے باعث اب افغانستان کے اندر سے بھی نظام کی تبدیلی کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔ گلبدین حکمت یار کا یہ حالیہ بیان طالبان انتظامیہ کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج تصور کیا جا رہا ہے۔

دیکھیے: تاجکستان میں سرحدی کارروائی: افغانستان سے داخل ہونے والے 2 منشیات اسمگلر ہلاک

متعلقہ مضامین

پاک بحریہ نے مقامی طور پر تیار کردہ ‘تیمور’ ایئر لانچ کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کر کے اپنی آپریشنل تیاریوں کا طاقتور مظاہرہ کیا ہے۔

April 21, 2026

سعودی عرب میں بھارتی این ایس اے اجیت ڈوول کا تذلیل آمیز استقبال؛ اعلیٰ حکام کی عدم موجودگی نے بھارتی سفارتکاری کی ناکامی پر مہر ثبت کر دی۔

April 21, 2026

اسلام آباد میں بارودی مواد کی برآمدگی اور ٹریفک پابندیوں سے متعلق افغان پراپیگنڈا اکاؤنٹ کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔

April 21, 2026

دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ ہو یا معاشی محاذ پر درپیش چیلنجز، اس قوم نے فقر کی اسی سان پر اپنی خودی کو چمکایا جس کا خواب اقبال نے دیکھا تھا۔ آج ہم دنیا میں امن کے ضامن بھی ہیں اور وقت پڑنے پر بنیانِ مرصوص بھی۔

April 21, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *