پاکستان، ایران اور ترکیہ سے افغان مہاجرین کی بڑی تعداد میں وطن واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔ طالبان کی وزارت برائے مہاجرین کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران مجموعی طور پر ایک لاکھ 11 ہزار 324 افغان مہاجرین رضاکارانہ اور جبری طور پر افغانستان واپس پہنچے ہیں۔
وزارت کے ترجمان عبدالمطلب حقانی نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ان مہاجرین میں پاکستان سے 13 ہزار 834 خاندان، ایران سے 823 خاندان اور ترکیہ سے 19 خاندان شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق واپس آنے والوں میں سے 32 ہزار 295 افراد ایسے ہیں جنہیں میزبان ممالک سے جبری طور پر بے دخل کر کے واپس بھیجا گیا ہے۔
مہاجرین کے مسائل اور شکایات
افغانستان واپس پہنچنے والے مہاجرین نے میزبان ممالک میں درپیش مشکلات کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں سخت پابندیوں، معاشی دباؤ اور ناروا سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ متاثرین کے مطابق انہیں اپنی جائیدادیں اور جمع پونجی سمیٹنے کی مہلت بھی نہیں دی گئی، جس کی وجہ سے ان کا بیشتر سامان وہیں رہ گیا۔ وطن واپسی پر ان مہاجرین کو رہائش کی کمی اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔
آبادکاری کے لیے حکومتی اقدامات
دوسری جانب طالبان کی وزارت برائے شہری ترقی و ہاؤسنگ نے مہاجرین کی دوبارہ آبادکاری کے حوالے سے پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے۔ حکام کے مطابق گزشتہ ہجری شمسی سال کے دوران 11 صوبوں میں واپس آنے والے خاندانوں کے لیے 7 ہزار سے زائد رہائشی پلاٹس تقسیم کیے گئے ہیں۔ وزارت کا مزید کہنا ہے کہ مہاجرین کے لیے نئے رہائشی منصوبوں اور مستقل بستیوں کی تعمیر پر کام جاری ہے تاکہ ان کی زندگیوں کو معمول پر لایا جا سکے۔
دیکھیے: تاجکستان میں سرحدی کارروائی: افغانستان سے داخل ہونے والے 2 منشیات اسمگلر ہلاک