پی ٹی آئی اس وقت تنظیمی اور قیادت کے بحران کا شکار ہے، جہاں نظریہ یا اقتدار کی جاری جنگ نے جماعت کے سیاسی مستقبل پر سوالیہ نشانات ثبت کر دیے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ تحریکِ انصاف جو کبھی ادارہ جاتی نظم و ضبط کا دعویٰ کرتی تھی، اب مکمل طور پر شخصی سیاست اور خاندانی اثر و رسوخ کی گرفت میں آ چکی ہے۔
اس بحران کا سب سے نمایاں پہلو بانیٔ پی ٹی آئی کی ہمشیرہ کا سیاسی منظر نامے پر اچانک اُبھرا ہوا کلیدی کردار ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ ایک ایسی شخصیت جن کا نہ تو کوئی سیاسی تجربہ ہے اور نہ ہی کوئی قابلِ ذکر سیاسی قد و قامت، اس وقت ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت کی قیادت اور فیصلہ سازی کے عمل پر حاوی ہیں۔ اس غیر جمہوری طریقے سے قیادت کی منتقلی نے جماعت کے نظریاتی کارکنوں میں شدید مایوسی پیدا کر دی ہے، جو اسے موروثی سیاست کی بدترین شکل قرار دے رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ قیادت کا المیہ یہ ہے کہ وہ اپنے شخصی اور جماعتی مفادات کے تحفظ کے لیے ملک میں خلفشار اور بدامنی پھیلانے سے بھی گریز نہیں کر رہی۔ اپنے سیاسی مفادات کے حصول کے لیے احتجاجی سیاست کی آڑ میں ریاست کے خلاف محاذ آرائی اور عوام کو ریاست مخالف استعمال کرنا اب پی ٹی آئی کا بنیادی وطیرہ بن چکا ہے۔ اس اسٹریٹجک سوچ کے فقدان نے نہ صرف وفاق بلکہ خیبر پختونخوا جیسے حساس صوبے کو بھی شدید بدامنی اور انتظامی عدم استحکام کی طرف دھکیل دیا ہے۔
مفاداتی سیاست میں اس حد تک اضافہ ہو چکا ہے کہ قومی سلامتی اور عوامی تحفظ کو سیاسی مفادات کے لیے پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے۔ ماہرینِ سیاست کا کہنا ہے کہ جب کسی جماعت کی قیادت ایسے ہاتھوں میں چلی جائے جو سیاسی فہم و فراست سے عاری ہوں اور جن کی ترجیحات میں ملکی استحکام کے بجائے صرف خاندانی اور شخصی تحفظ ہو تو وہاں قیادت کا بحران ناگزیر ہو جاتا ہے۔ پی ٹی آئی کے اندر جاری یہ داخلی خلفشار ثابت کرتا ہے کہ پارٹی اب ایک سیاسی قوت کے بجائے ایک ایسے دباؤ کے گروہ میں تبدیل ہو چکی ہے جو اقتدار کی ہوس میں کسی بھی قسم کے قومی نقصان کی پرواہ کرنے کو تیار نہیں ہے۔
دیکھیے: پاکستانی کرکٹ کا بحران: محض شکست نہیں، بلکہ نظام کا زوال