پاکستان کا کہنا ہے کہ امریک ایران امن معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کا بڑا موقع ہے، جو یمن میں طویل تنازع کے خاتمے میں مددگار ثابت ہوگا۔

June 18, 2026

امریکہ اور ایران نے کشیدگی ختم کرنے کے لیے تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت آبنائے ہرمز کو فوری کھولا جائے گا۔

June 18, 2026

چینی وزیرِ خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ میں فوری جنگ بندی اور پائیدار امن کے قیام کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیتے ہوئے یوکرین اور غزہ جیسے تنازعات کا سیاسی حل نکالنے کا مطالبہ کیا ہے۔

June 17, 2026

بھارتی جریدے کے مطابق مودی حکومت کی انتہا پسند ہندوتوا پالیسیوں اور حامیوں کے غیر ذمہ دارانہ رویوں کے باعث مغرب میں مقیم بھارتیوں کو ہندوفوبیا کا سامنا ہے۔

June 17, 2026

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم قیمتیں کم ہونے پر عوام کو مکمل ریلیف دیا جائے گا، جبکہ خسارے میں چلنے والے سرکاری ادارے بند کیے جا رہے ہیں۔

June 17, 2026

امریکی جریدے دی ڈپلومیٹ نے کہا ہے کہ امریکا اقوام متحدہ میں بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کی بلیک لسٹنگ کے لیے پاکستان اور چین کی سفارتی کوششوں کی حمایت کرے۔

June 17, 2026

موروثی سیاست اور قیادت کا بحران: پی ٹی آئی کے غیر تجربہ کار فیصلوں سے کارکنان مایوس

پی ٹی آئی میں موروثی سیاست اور ناتجربہ کار قیادت کے غلبے سے نظریاتی کارکن مایوس؛ شخصی مفادات کے لیے ملکی استحکام کو داؤ پر لگانے کی پالیسی نے بحران پیدا کر دیا
پی ٹی آئی میں موروثی سیاست اور ناتجربہ کار قیادت کے غلبے سے نظریاتی کارکن مایوس؛ شخصی مفادات کے لیے ملکی استحکام کو داؤ پر لگانے کی پالیسی نے بحران پیدا کر دیا

ماہرین کے مطابق پی ٹی آئی کا اپنے مفادات کی آڑ میں ریاست کے خلاف محاذ آرائی اور عوام کو ریاست مخالف استعمال کرنا اب انکا وطیرہ بن چکا ہے

February 25, 2026

پی ٹی آئی اس وقت تنظیمی اور قیادت کے بحران کا شکار ہے، جہاں نظریہ یا اقتدار کی جاری جنگ نے جماعت کے سیاسی مستقبل پر سوالیہ نشانات ثبت کر دیے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ تحریکِ انصاف جو کبھی ادارہ جاتی نظم و ضبط کا دعویٰ کرتی تھی، اب مکمل طور پر شخصی سیاست اور خاندانی اثر و رسوخ کی گرفت میں آ چکی ہے۔

اس بحران کا سب سے نمایاں پہلو بانیٔ پی ٹی آئی کی ہمشیرہ کا سیاسی منظر نامے پر اچانک اُبھرا ہوا کلیدی کردار ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ ایک ایسی شخصیت جن کا نہ تو کوئی سیاسی تجربہ ہے اور نہ ہی کوئی قابلِ ذکر سیاسی قد و قامت، اس وقت ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت کی قیادت اور فیصلہ سازی کے عمل پر حاوی ہیں۔ اس غیر جمہوری طریقے سے قیادت کی منتقلی نے جماعت کے نظریاتی کارکنوں میں شدید مایوسی پیدا کر دی ہے، جو اسے موروثی سیاست کی بدترین شکل قرار دے رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ قیادت کا المیہ یہ ہے کہ وہ اپنے شخصی اور جماعتی مفادات کے تحفظ کے لیے ملک میں خلفشار اور بدامنی پھیلانے سے بھی گریز نہیں کر رہی۔ اپنے سیاسی مفادات کے حصول کے لیے احتجاجی سیاست کی آڑ میں ریاست کے خلاف محاذ آرائی اور عوام کو ریاست مخالف استعمال کرنا اب پی ٹی آئی کا بنیادی وطیرہ بن چکا ہے۔ اس اسٹریٹجک سوچ کے فقدان نے نہ صرف وفاق بلکہ خیبر پختونخوا جیسے حساس صوبے کو بھی شدید بدامنی اور انتظامی عدم استحکام کی طرف دھکیل دیا ہے۔

مفاداتی سیاست میں اس حد تک اضافہ ہو چکا ہے کہ قومی سلامتی اور عوامی تحفظ کو سیاسی مفادات کے لیے پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے۔ ماہرینِ سیاست کا کہنا ہے کہ جب کسی جماعت کی قیادت ایسے ہاتھوں میں چلی جائے جو سیاسی فہم و فراست سے عاری ہوں اور جن کی ترجیحات میں ملکی استحکام کے بجائے صرف خاندانی اور شخصی تحفظ ہو تو وہاں قیادت کا بحران ناگزیر ہو جاتا ہے۔ پی ٹی آئی کے اندر جاری یہ داخلی خلفشار ثابت کرتا ہے کہ پارٹی اب ایک سیاسی قوت کے بجائے ایک ایسے دباؤ کے گروہ میں تبدیل ہو چکی ہے جو اقتدار کی ہوس میں کسی بھی قسم کے قومی نقصان کی پرواہ کرنے کو تیار نہیں ہے۔

دیکھیے: پاکستانی کرکٹ کا بحران: محض شکست نہیں، بلکہ نظام کا زوال

متعلقہ مضامین

پاکستان کا کہنا ہے کہ امریک ایران امن معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کا بڑا موقع ہے، جو یمن میں طویل تنازع کے خاتمے میں مددگار ثابت ہوگا۔

June 18, 2026

امریکہ اور ایران نے کشیدگی ختم کرنے کے لیے تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت آبنائے ہرمز کو فوری کھولا جائے گا۔

June 18, 2026

چینی وزیرِ خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ میں فوری جنگ بندی اور پائیدار امن کے قیام کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیتے ہوئے یوکرین اور غزہ جیسے تنازعات کا سیاسی حل نکالنے کا مطالبہ کیا ہے۔

June 17, 2026

بھارتی جریدے کے مطابق مودی حکومت کی انتہا پسند ہندوتوا پالیسیوں اور حامیوں کے غیر ذمہ دارانہ رویوں کے باعث مغرب میں مقیم بھارتیوں کو ہندوفوبیا کا سامنا ہے۔

June 17, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *