اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات پر بین الحکومتی مذاکرات کا عمل جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس تک بڑھا دیا گیا ہے، جو ستمبر 2026 میں شروع ہوگا۔ سال 2009 سے جاری ان مذاکرات میں مستقل نشستوں، ویٹو، علاقائی نمائندگی، کونسل کے حجم اور طریقہ کار پر اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا ہے۔
پاکستان نے یونائٹنگ فار کنسنسس گروپ کے اہم رکن کی حیثیت سے سلامتی کونسل میں مزید مستقل نشستوں اور ویٹو کے اختیارات کی مخالفت کی ہے۔ پاکستان کے مطابق کونسل کی شفافیت کے لیے منتخب غیر مستقل نشستوں میں اضافہ زیادہ مؤثر راستہ ہے۔
یو ایف سی گروپ نے منتخب ارکان کی تعداد 10 سے بڑھا کر 20 کرنے اور طویل مدتی رکنیت کی تجویز پیش کی ہے تاکہ افریقہ، ایشیا، لاطینی امریکہ اور او آئی سی ممالک کو مناسب نمائندگی مل سکے۔ دوسری جانب، بھارت، برازیل، جرمنی اور جاپان (جی فور) اپنے لیے نئی مستقل نشستوں کے خواہاں ہیں۔
سلامتی کونسل کے موجودہ 15 ارکان کا ڈھانچہ 1945 کے بعد کی جغرافیائی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ امریکہ کی جانب سے اسرائیل کے تحفظ کے لیے ویٹو کا بار بار استعمال اور غصے کے باوجود قراردادوں کا رکنا کونسل کی ساکھ اور احتسابی نظام پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارت اور جرمنی کی مستقل رکنیت کی کوششوں پر تحفظات پائے جاتے ہیں۔ بھارت کی جانب سے کشمیر پر یو این قراردادوں کی خلاف ورزی، سندھ طاس معاہدے کی معطلی اور اقلیتوں سے بدسلوکی اس کے نامزدگی پر سوالات کھڑے کرتی ہے، جبکہ یورپ میں پہلے سے دو مستقل ارکان موجود ہیں۔
سلامتی کونسل میں پائیدار اصلاحات کا انحصار مستقل ارکان کی تعداد اور ویٹو بڑھانے کے بجائے باقاعدہ انتخابات، شفافیت اور تمام خطوں کی متوازن شمولیت پر ہے۔