"> عدالتی آداب اور نظم و ضبط کی اہمیت، سہیل آفریدی کے رویے پر قانونی حلقوں میں بحث - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

عدالتی آداب اور نظم و ضبط کی اہمیت، سہیل آفریدی کے رویے پر قانونی حلقوں میں بحث

پی ٹی آئی کے وکلاء کی جانب سے عدالتی آداب کے برعکس رویوں پر قانونی ماہرین نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ضابطہ اخلاق کی پاسداری پر زور دیا ہے
پی ٹی آئی کے وکلاء کی جانب سے عدالتی آداب کے برعکس رویوں پر قانونی ماہرین نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ضابطہ اخلاق کی پاسداری پر زور دیا ہے

عدالتی نظم و ضبط اور ججز کے وقار کا احترام ہر وکیل پر لازم ہے۔ سہیل آفریدی اور مشال یوسفزئی کے حالیہ اقدامات کے تناظر میں قانونی جنگ قواعد کے مطابق لڑنے کی ضرورت ہے

February 26, 2026

عدالتی وقار اور ضابطۂ اخلاق کی پاسداری کے حوالے سے قانونی حلقوں میں ایک بار پھر بحث چھڑ گئی ہے۔ حالیہ واقعہ میں پی ٹی آئی سے وابستہ سہیل آفریدی نے معزز چیف جسٹس سرفراز ڈوگر سے اس وقت اوپن کورٹ میں ملاقات کی کوشش کی جب وہ ایک دوسرے مقدمے کی سماعت میں مصروف تھے۔ بعد ازاں چیف جسٹس کاروائی مکمل کر کے اپنے چیمبر میں تشریف لے گئے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی جو خود ایک وکیل ہیں، انہیں عدالتی آداب اور جج کے منصب کے احترام کا بخوبی علم ہونا چاہیے تھا۔ عدالت کے نظم و ضبط کو برقرار رکھنا ہر قانون دان کی پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے۔ یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ تحریک انصاف کے بعض حلقوں میں عدلیہ کے خلاف سخت اور نازیبا انداز اختیار کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے، جو کہ عدالتی تقدس کے منافی ہے۔

اس کے باوجود، معزز چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کی بہنوں اور وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کو اپنے چیمبر میں بلا کر ان کا موقف سنا۔

ماضی میں بھی ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں، جہاں مشال یوسفزئی نے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ سماعت کے دوران بغیر دعوت کے روسٹرم تک آنے کی کوشش کی تھی، جس پر عدالت نے سخت ردِعمل ظاہر کیا تھا۔ سینیئر قانون دانوں کی رائے ہے کہ عدالتوں میں غیر ضروری دباؤ ڈالنے یا غیر رسمی طریقے اپنانے کے بجائے، مضبوط دلائل اور مکمل قانونی تیاری کے ساتھ قواعد و ضوابط کے مطابق مقدمات کی پیروی کرنی چاہیے تاکہ انصاف کے تقاضے احسن طریقے سے پورے ہو سکیں۔

دیکھیے: مودی کا دورہ اسرائیل اور پاکستان کی سکیورٹی پر اس کے اثرات

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *