عدالتی وقار اور ضابطۂ اخلاق کی پاسداری کے حوالے سے قانونی حلقوں میں ایک بار پھر بحث چھڑ گئی ہے۔ حالیہ واقعہ میں پی ٹی آئی سے وابستہ سہیل آفریدی نے معزز چیف جسٹس سرفراز ڈوگر سے اس وقت اوپن کورٹ میں ملاقات کی کوشش کی جب وہ ایک دوسرے مقدمے کی سماعت میں مصروف تھے۔ بعد ازاں چیف جسٹس کاروائی مکمل کر کے اپنے چیمبر میں تشریف لے گئے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی جو خود ایک وکیل ہیں، انہیں عدالتی آداب اور جج کے منصب کے احترام کا بخوبی علم ہونا چاہیے تھا۔ عدالت کے نظم و ضبط کو برقرار رکھنا ہر قانون دان کی پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے۔ یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ تحریک انصاف کے بعض حلقوں میں عدلیہ کے خلاف سخت اور نازیبا انداز اختیار کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے، جو کہ عدالتی تقدس کے منافی ہے۔
اس کے باوجود، معزز چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کی بہنوں اور وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کو اپنے چیمبر میں بلا کر ان کا موقف سنا۔
ماضی میں بھی ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں، جہاں مشال یوسفزئی نے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ سماعت کے دوران بغیر دعوت کے روسٹرم تک آنے کی کوشش کی تھی، جس پر عدالت نے سخت ردِعمل ظاہر کیا تھا۔ سینیئر قانون دانوں کی رائے ہے کہ عدالتوں میں غیر ضروری دباؤ ڈالنے یا غیر رسمی طریقے اپنانے کے بجائے، مضبوط دلائل اور مکمل قانونی تیاری کے ساتھ قواعد و ضوابط کے مطابق مقدمات کی پیروی کرنی چاہیے تاکہ انصاف کے تقاضے احسن طریقے سے پورے ہو سکیں۔