پی ٹی آئی کے اندرونی ذرائع سے حاصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق،جماعت میں جاری گروہ بندی نے بانی عمران خان کو ایک مشکل صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ عمران خان کی جانب سے خود منظرِ عام پر نہ آنے اور مہم کی براہِ راست قیادت سے گریز کی بنیادی وجہ ان کی اپنی جماعت کے ‘اندرونی مسائل’ ہیں۔
رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف اس وقت کئی دھڑوں میں منقسم دکھائی دیتی ہے، جہاں مختلف گروہ اپنی اپنی بقا اور پارٹی پر قبضے کی جنگ میں مصروف ہیں۔ ان حالات میں عمران خان کے لیے کسی ایک دھڑے کی حمایت یا اجتماعی قیادت فراہم کرنا دشوار ہوتا جا رہا ہے۔ یہ تاثر عام ہے کہ جب تک پارٹی کے اندر نظم و ضبط بحال نہیں ہوتا، بانی کا خود سامنے آنا ان کے سیاسی بیانیے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پر بھی یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ پارٹی کی موجودہ قیادت کارکنان کو متحرک کرنے میں ناکام رہی ہے جس کا بوجھ بانی پر پڑ رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ عمران خان کی خاموشی یا گوشہ نشینی دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ وہ اپنی جماعت کے اندرونی انتشار کو قابو کرنے میں فی الحال بے بس ہیں۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پارٹی کے سینئر رہنماؤں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج نے نہ صرف تنظیمی ڈھانچے کو مفلوج کر دیا ہے بلکہ کارکنان میں بھی مایوسی پھیلا دی ہے۔ اسی کھینچا تانی کے باعث عمران خان کسی بڑے سیاسی اقدام کا اعلان کرنے سے کتراتے ہوئے ‘انتظار کرو اور دیکھو’ کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔
دیکھیے: مودی کا دورہ اسرائیل اور پاکستان کی سکیورٹی پر اس کے اثرات