"> دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 'اندرونی سہولت کاری' کا مسئلہ، ریاستِ پاکستان سے پالیسی واضح کرنے کا مطالبہ - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ‘اندرونی سہولت کاری’ کا مسئلہ، ریاستِ پاکستان سے پالیسی واضح کرنے کا مطالبہ

بلوچستان سے اسلام آباد تک دہشت گردی کی حالیہ لہر نے جہاں سکیورٹی چیلنجز میں اضافہ کیا ہے، وہی بعض سیاسی و مذہبی رہنماؤں کی جانب سے شدت پسندوں کے بیانیے کی حمایت نے ریاست کے لیے کڑا امتحان پیدا کر دیا ہے
بلوچستان سے اسلام آباد تک دہشت گردی کی حالیہ لہر نے جہاں سکیورٹی چیلنجز میں اضافہ کیا ہے، وہی بعض سیاسی و مذہبی رہنماؤں کی جانب سے شدت پسندوں کے بیانیے کی حمایت نے ریاست کے لیے کڑا امتحان پیدا کر دیا ہے

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اندرونی وفاداریوں پر سوالات۔ مذہبی جماعتوں اور معروف شخصیات کی جانب سے افغان طالبان کی حمایت پر عوامی و دفاعی حلقوں میں تشویش کی لہر

February 26, 2026

پاکستان میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران بلوچستان سے لے کر اسلام آباد تک دہشت گردی کی ایک نئی اور ہولناک لہر دیکھی گئی ہے، جس نے ریاست کے دفاعی نظام اور اندرونی صفوں میں موجود ‘نظریاتی ہمدردوں’ کے کردار پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ عوامی اور دفاعی حلقوں کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے ٹھکانے، ان کے سہولت کار اور ان کی سرپرستی کرنے والے عناصر اب کسی سے ڈھکے چھپے نہیں رہے لیکن اس کے باوجود بعض گروہوں کی خاموشی اور چند ایک کی جانب سے دشمن کے بیانیے کی حمایت تشویشناک ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایک طرف جہاں افغان طالبان کی قیادت کھلے عام پاکستان کو دھمکیاں دے رہی ہے، وہیں پاکستان کے اندر موجود بعض سیاسی اور مذہبی حلقوں کا رویہ دوہرا معیار ظاہر کر رہا ہے۔ جے یو آئی کے بعض ذمہ داران کی جانب سے علی الاعلان افغان طالبان اور ان سے وابستہ گروہوں کے بیانیے کی حمایت کی جا رہی ہے۔ اسی طرح کراچی سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیت مولوی منظور مینگل جیسے افراد پر الزام ہے کہ وہ دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کو ‘مظلوم’ بنا کر پیش کر رہے ہیں، جو کہ براہِ راست ریاستِ پاکستان کے بیانیے کی نفی ہے۔

تجزیہ کار سوال اٹھا رہے ہیں کہ وہ مذہبی و سیاسی رہنما جو پاکستان کی سرزمین پر تمام مراعات حاصل کر رہے ہیں، ان کی وفاداری کس کے ساتھ ہے؟ ایک ایسے وقت میں جب ملک دہشت گردی کی آگ میں جھلس رہا ہے، دشمن کے حق میں نرم گوشہ رکھنا یا ان کی کارروائیوں کو جواز فراہم کرنا کسی طور بھی حب الوطنی کے زمرے میں نہیں آتا۔

سیکیورٹی ماہرین کا ماننا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ ایک متفقہ قومی بیانیے سے جیتی جا سکتی ہے۔ اگر اندرونی طور پر سیاسی و مذہبی ڈھانچے میں موجود عناصر دہشت گردوں کی نظریاتی آبیاری کرتے رہیں گے، تو اس کڑی جنگ میں کامیابی کا حصول مشکل ہو جائے گا۔ ریاستِ پاکستان کے لیے اب وقت آ گیا ہے کہ وہ ان تمام کرداروں کا محاسبہ کرے جو پاکستان کا نمک کھا کر دشمن کی زبان بول رہے ہیں اور قومی سلامتی کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔

دیکھیے: آپریشن غضب للحق: پاکستان فضائیہ کی افغانستان میں کارروائیوں کا آغاز، ننگرہار میں اسلحہ ڈپو تباہ کر دیا

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *