نبیل ارمان کے حوالے سے جاری تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ وہ محض ایک طالب علم نہیں بلکہ کالعدم بی ایل اے کے میڈیا ونگ اور آن لائن بھرتیوں کے نیٹ ورک کا ایک اہم حصہ رہے ہیں

February 26, 2026

معروف تجزیہ نگار فیصل وڑائچ نے پاک افغان مذاکرات کو ایک ‘سراب’ قرار دیتے ہوئے طالبان کے بیانیے اور اقدامات میں موجود تضاد کو خطے کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دے دیا ہے

February 26, 2026

پی ٹی آئی کے وکلاء کی جانب سے عدالتی آداب کے برعکس رویوں پر قانونی ماہرین نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ضابطہ اخلاق کی پاسداری پر زور دیا ہے

February 26, 2026

اسلام آباد کو چاہیے کہ وہ دفاعی تیاری کے ساتھ ساتھ معاشی استحکام، علاقائی روابط اور سفارتی حکمت عملی کو مضبوط کرے۔ طاقت کا توازن صرف اسلحے سے نہیں بلکہ معیشت، سفارت کاری اور بیانیے کی برتری سے بھی قائم رہتا ہے۔

February 26, 2026

بھارت میں اپوزیشن جماعتوں اور بائیں بازو کی قیادت نے مودی کی اسرائیل حمایت پر تنقید کی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ غزہ میں ہزاروں فلسطینیوں کی ہلاکت کے باوجود اسرائیل کی غیر مشروط حمایت بھارت کی تاریخی فلسطین نواز پالیسی سے انحراف ہے۔

February 26, 2026

جس طریقے سے فلسطین میں اسرائیل نے فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضے کیے، انہیں بے دخل کیا، ان سے زمینیں چھینیں، شہریت کے قوانین کے ذریعے ان کا استحصال کیا، انہیں در بدر کر کے بکھیر دیا، ان کی جائیدادیں ہتھیا لیں، نوآبادیاتی طرز پر ریاستی زمین کے اصول کے نام پر انہیں اپنی ہی سر زمین پر محکوم بنا دیا، بالکل اسی طرح اسی طرز پر بھارت کشمیر میں اسرائیلی فار مولے کے تحت اس کی مشاورت اور اعانت سے کشمیریوں اور بھارتی مسلمانوں پر ظلم کر رہا ہے۔

February 26, 2026

دہشت گردی کا آن لائن نیٹ ورک: بی ایل اے کے میڈیا ونگ اور بھرتیوں میں نبیل ارمان کا مبینہ کردار

نبیل ارمان کے حوالے سے جاری تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ وہ محض ایک طالب علم نہیں بلکہ کالعدم بی ایل اے کے میڈیا ونگ اور آن لائن بھرتیوں کے نیٹ ورک کا ایک اہم حصہ رہے ہیں
نبیل ارمان کے حوالے سے جاری تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ وہ محض ایک طالب علم نہیں بلکہ کالعدم بی ایل اے کے میڈیا ونگ اور آن لائن بھرتیوں کے نیٹ ورک کا ایک اہم حصہ رہے ہیں

بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے پیچھے موجود نیٹ ورک کی کڑیاں نبیل ارمان سے ملنے لگیں۔ بی ایس او آزاد کے سابق صدر پر بی ایل اے کمانڈر کے ساتھ قریبی روابط کا الزام

February 26, 2026

بلوچستان میں حالیہ دہشت گردانہ کاروائیوں کی تحقیقات میں مصروف اداروں نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ زیرِ حراست نبیل ارمان کوئی سادہ طالب علم نہیں بلکہ ان کے روابط کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے اعلیٰ ترین حلقوں سے رہے ہیں۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق نبیل ارمان بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) آزاد کے سابق صدر رہ چکے ہیں اور مبینہ طور پر بی ایل اے کے لیے آن لائن بھرتیوں کے عمل میں کلیدی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

تحقیقاتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ نبیل ارمان بی ایل اے کے میڈیا ونگ سے بھی وابستہ رہے اور ایک بدنام زمانہ بی ایل اے کمانڈر کے نہایت قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔ حساس نوعیت کی تحقیقات کے باعث مذکورہ کمانڈر کا نام فی الوقت صیغہ راز میں رکھا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں ہونے والے حالیہ حملوں کے پیچھے موجود پورے نیٹ ورک کو جلد بے نقاب کر دیا جائے گا، جس سے یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ ان کارروائیوں کا ماسٹر مائنڈ کون تھا، منصوبہ بندی کس نے کی اور پروپیگنڈا مواد کس نے شائع کیا۔

قانونی اور سیکیورٹی حلقوں نے اس موقف پر زور دیا ہے کہ نبیل ارمان کو محض ایک ‘عام طالب علم’ قرار دے کر ان کے حق میں مہم چلانا حقائق سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ “ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی” اور انسانی حقوق کی آڑ میں آواز اٹھانے والوں کو چاہیے کہ وہ تحقیقات مکمل ہونے اور تمام حقائق سامنے آنے تک انتظار کریں۔

امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ نبیل ارمان سے ہونے والی تفتیش کے نتیجے میں بی ایل اے کے ڈیجیٹل نیٹ ورک اور تعلیمی اداروں میں موجود ان کے سہولت کاروں کے حوالے سے مزید بڑے انکشافات متوقع ہیں۔

متعلقہ مضامین

معروف تجزیہ نگار فیصل وڑائچ نے پاک افغان مذاکرات کو ایک ‘سراب’ قرار دیتے ہوئے طالبان کے بیانیے اور اقدامات میں موجود تضاد کو خطے کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دے دیا ہے

February 26, 2026

پی ٹی آئی کے وکلاء کی جانب سے عدالتی آداب کے برعکس رویوں پر قانونی ماہرین نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ضابطہ اخلاق کی پاسداری پر زور دیا ہے

February 26, 2026

اسلام آباد کو چاہیے کہ وہ دفاعی تیاری کے ساتھ ساتھ معاشی استحکام، علاقائی روابط اور سفارتی حکمت عملی کو مضبوط کرے۔ طاقت کا توازن صرف اسلحے سے نہیں بلکہ معیشت، سفارت کاری اور بیانیے کی برتری سے بھی قائم رہتا ہے۔

February 26, 2026

بھارت میں اپوزیشن جماعتوں اور بائیں بازو کی قیادت نے مودی کی اسرائیل حمایت پر تنقید کی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ غزہ میں ہزاروں فلسطینیوں کی ہلاکت کے باوجود اسرائیل کی غیر مشروط حمایت بھارت کی تاریخی فلسطین نواز پالیسی سے انحراف ہے۔

February 26, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *