"> دہشت گردی کا آن لائن نیٹ ورک: بی ایل اے کے میڈیا ونگ اور بھرتیوں میں نبیل ارمان کا مبینہ کردار - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

دہشت گردی کا آن لائن نیٹ ورک: بی ایل اے کے میڈیا ونگ اور بھرتیوں میں نبیل ارمان کا مبینہ کردار

نبیل ارمان کے حوالے سے جاری تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ وہ محض ایک طالب علم نہیں بلکہ کالعدم بی ایل اے کے میڈیا ونگ اور آن لائن بھرتیوں کے نیٹ ورک کا ایک اہم حصہ رہے ہیں
نبیل ارمان کے حوالے سے جاری تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ وہ محض ایک طالب علم نہیں بلکہ کالعدم بی ایل اے کے میڈیا ونگ اور آن لائن بھرتیوں کے نیٹ ورک کا ایک اہم حصہ رہے ہیں

بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے پیچھے موجود نیٹ ورک کی کڑیاں نبیل ارمان سے ملنے لگیں۔ بی ایس او آزاد کے سابق صدر پر بی ایل اے کمانڈر کے ساتھ قریبی روابط کا الزام

February 26, 2026

بلوچستان میں حالیہ دہشت گردانہ کاروائیوں کی تحقیقات میں مصروف اداروں نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ زیرِ حراست نبیل ارمان کوئی سادہ طالب علم نہیں بلکہ ان کے روابط کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے اعلیٰ ترین حلقوں سے رہے ہیں۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق نبیل ارمان بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) آزاد کے سابق صدر رہ چکے ہیں اور مبینہ طور پر بی ایل اے کے لیے آن لائن بھرتیوں کے عمل میں کلیدی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

تحقیقاتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ نبیل ارمان بی ایل اے کے میڈیا ونگ سے بھی وابستہ رہے اور ایک بدنام زمانہ بی ایل اے کمانڈر کے نہایت قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔ حساس نوعیت کی تحقیقات کے باعث مذکورہ کمانڈر کا نام فی الوقت صیغہ راز میں رکھا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں ہونے والے حالیہ حملوں کے پیچھے موجود پورے نیٹ ورک کو جلد بے نقاب کر دیا جائے گا، جس سے یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ ان کارروائیوں کا ماسٹر مائنڈ کون تھا، منصوبہ بندی کس نے کی اور پروپیگنڈا مواد کس نے شائع کیا۔

قانونی اور سیکیورٹی حلقوں نے اس موقف پر زور دیا ہے کہ نبیل ارمان کو محض ایک ‘عام طالب علم’ قرار دے کر ان کے حق میں مہم چلانا حقائق سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ “ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی” اور انسانی حقوق کی آڑ میں آواز اٹھانے والوں کو چاہیے کہ وہ تحقیقات مکمل ہونے اور تمام حقائق سامنے آنے تک انتظار کریں۔

امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ نبیل ارمان سے ہونے والی تفتیش کے نتیجے میں بی ایل اے کے ڈیجیٹل نیٹ ورک اور تعلیمی اداروں میں موجود ان کے سہولت کاروں کے حوالے سے مزید بڑے انکشافات متوقع ہیں۔

دیکھیے: آپریشن غضب للحق: پاکستان فضائیہ کی افغانستان میں کارروائیوں کا آغاز، ننگرہار میں اسلحہ ڈپو تباہ کر دیا

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *