پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ سرحدی کشیدگی اور سفارتی تعطل نے اس بنیادی سوال کو جنم دیا ہے کہ کیا کابل کے موجودہ حکمرانوں کے ساتھ مذاکرات کا عمل محض ایک ‘سراب’ ثابت ہو رہا ہے؟ معروف تجزیہ نگار فیصل وڑائچ کے حالیہ تفصیلی جائزے نے اس بحث کو نیا رخ دے دیا ہے، جس میں انہوں نے طالبان کے بیانیے اور ان کے زمینی اقدامات کے درمیان موجود گہری خلیج کی نشاندہی کی ہے۔
بیانیے اور اقدامات کا تضاد
فیصل وڑائچ کے مطابق افغان طالبان کی اصل سوچ اور ان کے زمینی حقائق کا گہرا جائزہ لینے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان کے قول و فعل میں واضح تضاد موجود ہے۔ افغان طالبان ایک طرف عالمی سطح پر اپنی حکومت کو تسلیم کروانے کے لیے سفارتی کوششیں کر رہے ہیں اور امن پسندی کا راگ الاپ رہے ہیں، لیکن دوسری طرف ان کے زمینی حقائق مکمل طور پر مختلف ہیں۔ سرحدی جھڑپیں، دہشت گرد گروہوں کو مبینہ طور پر فراہم کی جانے والی سہولت کاری اور پاکستان کے سیکیورٹی تحفظات کو مسلسل نظر انداز کرنا اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ کابل انتظامیہ مذاکرات کی میز کو صرف وقت حاصل کرنے اور عالمی دباؤ کم کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
سوشل میڈیا پر بحث اور عوامی ردِعمل
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جاری بحث میں یہ موقف اپنایا جا رہا ہے کہ طالبان کا موجودہ رویہ خطے کے امن کے لیے ایک مستقل اور سنگین چیلنج بن چکا ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کی ذہنیت میں وقت کے ساتھ کوئی مثبت تبدیلی نہیں آئی، بلکہ ان کا رویہ اور سرحدی کشیدگی خطے کے استحکام کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے۔ ماہرین کے مطابق، طالبان کی موجودہ ذہنیت کو سمجھے بغیر کسی پائیدار حل تک پہنچنا اب ناممکن نظر آتا ہے۔
ریاستِ پاکستان کے لیے کڑا امتحان
دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کے لیے اب وہ وقت آ گیا ہے جب اسے اپنی افغان پالیسی میں بڑی اور فیصلہ کن تبدیلی لانی ہو گی۔ ماہرین کے مطابق، کابل کے ساتھ صرف مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنا اب کافی نہیں رہا، کیونکہ طالبان کی موجودہ قیادت پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو دور کرنے میں سنجیدہ نظر نہیں آتی۔ اب یہ فیصلہ کرنا ناگزیر ہو چکا ہے کہ آیا ریاست مذاکرات کا بے سود سلسلہ جاری رکھے یا اپنی سیکیورٹی پالیسی کو نئے اور سخت خطوط پر استوار کرے۔
مستقبل کا منظرنامہ
فیصل وڑائچ کے تجزیے کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پاکستان کو اپنی قومی سلامتی کے لیے اب ایک نیا اور جامع روڈ میپ تیار کرنا ہو گا، جہاں سفارت کاری کے ساتھ ساتھ اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے سخت گیر اقدامات بھی شامل ہوں۔ سیاسی حلقوں میں یہ سوال تیزی سے گردش کر رہا ہے کہ کیا پاکستان کو کابل کے حوالے سے ‘صبر کی پالیسی’ ترک کر کے اپنی خود مختاری کے تحفظ کے لیے متبادل راستے اختیار کر لینے چاہئیں؟