"> افغان طالبان کے دوہرے معیار نے پاکستان کو سخت فیصلوں پر مجبور کر دیا - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

افغان طالبان کے دوہرے معیار نے پاکستان کو سخت فیصلوں پر مجبور کر دیا

معروف تجزیہ نگار فیصل وڑائچ نے پاک افغان مذاکرات کو ایک ‘سراب’ قرار دیتے ہوئے طالبان کے بیانیے اور اقدامات میں موجود تضاد کو خطے کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دے دیا ہے
معروف تجزیہ نگار فیصل وڑائچ نے پاک افغان مذاکرات کو ایک 'سراب' قرار دیتے ہوئے طالبان کے بیانیے اور اقدامات میں موجود تضاد کو خطے کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دے دیا ہے

پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ اور مذاکرات کی ناکامی نے اسلام آباد کو نئی سیکیورٹی پالیسی پر غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ فیصل وڑائچ

February 26, 2026

پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ سرحدی کشیدگی اور سفارتی تعطل نے اس بنیادی سوال کو جنم دیا ہے کہ کیا کابل کے موجودہ حکمرانوں کے ساتھ مذاکرات کا عمل محض ایک ‘سراب’ ثابت ہو رہا ہے؟ معروف تجزیہ نگار فیصل وڑائچ کے حالیہ تفصیلی جائزے نے اس بحث کو نیا رخ دے دیا ہے، جس میں انہوں نے طالبان کے بیانیے اور ان کے زمینی اقدامات کے درمیان موجود گہری خلیج کی نشاندہی کی ہے۔

بیانیے اور اقدامات کا تضاد

فیصل وڑائچ کے مطابق افغان طالبان کی اصل سوچ اور ان کے زمینی حقائق کا گہرا جائزہ لینے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان کے قول و فعل میں واضح تضاد موجود ہے۔ افغان طالبان ایک طرف عالمی سطح پر اپنی حکومت کو تسلیم کروانے کے لیے سفارتی کوششیں کر رہے ہیں اور امن پسندی کا راگ الاپ رہے ہیں، لیکن دوسری طرف ان کے زمینی حقائق مکمل طور پر مختلف ہیں۔ سرحدی جھڑپیں، دہشت گرد گروہوں کو مبینہ طور پر فراہم کی جانے والی سہولت کاری اور پاکستان کے سیکیورٹی تحفظات کو مسلسل نظر انداز کرنا اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ کابل انتظامیہ مذاکرات کی میز کو صرف وقت حاصل کرنے اور عالمی دباؤ کم کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

سوشل میڈیا پر بحث اور عوامی ردِعمل

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جاری بحث میں یہ موقف اپنایا جا رہا ہے کہ طالبان کا موجودہ رویہ خطے کے امن کے لیے ایک مستقل اور سنگین چیلنج بن چکا ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کی ذہنیت میں وقت کے ساتھ کوئی مثبت تبدیلی نہیں آئی، بلکہ ان کا رویہ اور سرحدی کشیدگی خطے کے استحکام کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے۔ ماہرین کے مطابق، طالبان کی موجودہ ذہنیت کو سمجھے بغیر کسی پائیدار حل تک پہنچنا اب ناممکن نظر آتا ہے۔

ریاستِ پاکستان کے لیے کڑا امتحان

دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کے لیے اب وہ وقت آ گیا ہے جب اسے اپنی افغان پالیسی میں بڑی اور فیصلہ کن تبدیلی لانی ہو گی۔ ماہرین کے مطابق، کابل کے ساتھ صرف مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنا اب کافی نہیں رہا، کیونکہ طالبان کی موجودہ قیادت پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو دور کرنے میں سنجیدہ نظر نہیں آتی۔ اب یہ فیصلہ کرنا ناگزیر ہو چکا ہے کہ آیا ریاست مذاکرات کا بے سود سلسلہ جاری رکھے یا اپنی سیکیورٹی پالیسی کو نئے اور سخت خطوط پر استوار کرے۔

مستقبل کا منظرنامہ

فیصل وڑائچ کے تجزیے کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پاکستان کو اپنی قومی سلامتی کے لیے اب ایک نیا اور جامع روڈ میپ تیار کرنا ہو گا، جہاں سفارت کاری کے ساتھ ساتھ اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے سخت گیر اقدامات بھی شامل ہوں۔ سیاسی حلقوں میں یہ سوال تیزی سے گردش کر رہا ہے کہ کیا پاکستان کو کابل کے حوالے سے ‘صبر کی پالیسی’ ترک کر کے اپنی خود مختاری کے تحفظ کے لیے متبادل راستے اختیار کر لینے چاہئیں؟

دیکھیے: آپریشن غضب للحق: پاکستان فضائیہ کی افغانستان میں کارروائیوں کا آغاز، ننگرہار میں اسلحہ ڈپو تباہ کر دیا

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *