"> دہشت گردی پر خاموشی: ماہرین کی ملک کی مذہبی و سیاسی قیادت پر کڑی تنقید - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

دہشت گردی پر خاموشی: ماہرین کی ملک کی مذہبی و سیاسی قیادت پر کڑی تنقید

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور ریاست کسی بھی گروہ کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دے گی۔ تاہم عوامی حلقوں میں یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ بیانیے کی سطح پر بھی واضح اور دوٹوک موقف سامنے آنا چاہیے تاکہ کسی قسم کے ابہام کی گنجائش باقی نہ رہے۔
دہشت گردی پر خاموشی: ماہرین کی ملک کی مذہبی و سیاسی قیادت پر کڑی تنقید

تنقید کرنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ چند مذہبی و سیاسی شخصیات کے سوا اکثریت کی خاموشی سوالیہ نشان ہے۔

February 26, 2026

پاکستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد بعض مذہبی و سیاسی رہنماؤں کی خاموشی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ جو مذہبی شخصیات اور تنظیمیں تاجروں اور عوام سے بڑے پیمانے پر چندہ جمع کرتی ہیں، وہ ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی پر واضح مؤقف کیوں اختیار نہیں کر رہیں۔

گزشتہ ایک ماہ کے دوران بلوچستان سے اسلام آباد تک مختلف نوعیت کے حملوں نے سکیورٹی صورتحال پر تشویش میں اضافہ کیا ہے۔ ان واقعات کے بعد یہ مؤقف سامنے آ رہا ہے کہ ریاست کو نہ صرف عسکری بلکہ بیانیہ کی سطح پر بھی واضح اور متحد حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔

تنقید کرنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ چند مذہبی و سیاسی شخصیات کے سوا اکثریت کی خاموشی سوالیہ نشان ہے۔ بعض ناقدین نے الزام عائد کیا ہے کہ کچھ عناصر افغان طالبان کے مؤقف سے ہم آہنگ بیانات دے رہے ہیں یا شدت پسند گروہوں کو نرم انداز میں پیش کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے مختلف جماعتوں کے رہنماؤں پر بھی سوشل میڈیا پر تنقید کی جا رہی ہے، تاہم متعلقہ حلقوں کی جانب سے ان الزامات پر باضابطہ ردعمل محدود رہا ہے۔

دوسری جانب افغان طالبان کی قیادت کی جانب سے پاکستان سے متعلق سخت بیانات بھی سامنے آتے رہے ہیں، جس سے دوطرفہ تعلقات میں کشیدگی کا تاثر پیدا ہوا ہے۔ مبصرین کے مطابق ایسی صورتحال میں قومی یکجہتی اور واضح پالیسی ناگزیر ہے تاکہ دہشت گردی کے خلاف جاری کوششوں کو مؤثر بنایا جا سکے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دہشت گردی جیسے سنگین مسئلے پر ابہام یا تقسیم شدہ بیانیہ ریاستی مؤقف کو کمزور کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق ضروری ہے کہ تمام سیاسی و مذہبی قیادت کھل کر تشدد اور انتہاپسندی کی مذمت کرے اور قومی سلامتی کے معاملے پر مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور ریاست کسی بھی گروہ کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دے گی۔ تاہم عوامی حلقوں میں یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ بیانیے کی سطح پر بھی واضح اور دوٹوک موقف سامنے آنا چاہیے تاکہ کسی قسم کے ابہام کی گنجائش باقی نہ رہے۔

دیکھیے: آپریشن غضب للحق: پاکستان فضائیہ کی افغانستان میں کارروائیوں کا آغاز، ننگرہار میں اسلحہ ڈپو تباہ کر دیا

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *