پریس بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے کہا کہ “پاکستانیوں نے اس پورے عمل میں شاندار ثالثی کا کردار ادا کیا ہے اور ہم ان کی دوستی اور اس معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی کوششوں کو سراہتے ہیں”۔

April 15, 2026

افغان طالبان سرحد پار سے شدت پسندوں کو پاکستان میں داخل کرنے کی کوشش کر رہے تھے تاہم پاک فوج کی بروقت کارروائی کے باعث یہ کوشش ناکام بنا دی گئی۔ سکیورٹی حکام کے مطابق ناکامی کے بعد طالبان نے ردعمل میں شہری علاقوں کو نشانہ بنایا۔

April 15, 2026

گورو آریا نے اپنے بیان میں کہا کہ: “ہم اسرائیل کے حقیقی بھائی ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ اسرائیل لبنان پر 100 اور غزہ پر 50 بم گرائے”، جسے مبصرین نے کھلی جارحیت اور تشدد کی حمایت قرار دیا ہے۔

April 15, 2026

وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی مشترکہ سفارتی کوششوں کے باعث 11 اپریل کو اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات ممکن ہو سکے

April 15, 2026

حکام کے مطابق زخمیوں میں عمر علی اور صادقہ بی بی شامل ہیں، جنہیں فوری طور پر ڈی ایچ کیو ہسپتال خار منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

April 15, 2026

ذرائع کے مطابق فلم کی شوٹنگ جلد شروع ہونے کا امکان ہے جبکہ اس کی ریلیز 2027 میں متوقع ہے۔ فلم کی کہانی اور دیگر کاسٹ سے متعلق تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئی ہیں۔

April 15, 2026

دہشت گردی پر خاموشی: ماہرین کی ملک کی مذہبی و سیاسی قیادت پر کڑی تنقید

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور ریاست کسی بھی گروہ کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دے گی۔ تاہم عوامی حلقوں میں یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ بیانیے کی سطح پر بھی واضح اور دوٹوک موقف سامنے آنا چاہیے تاکہ کسی قسم کے ابہام کی گنجائش باقی نہ رہے۔
دہشت گردی پر خاموشی: ماہرین کی ملک کی مذہبی و سیاسی قیادت پر کڑی تنقید

تنقید کرنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ چند مذہبی و سیاسی شخصیات کے سوا اکثریت کی خاموشی سوالیہ نشان ہے۔

February 26, 2026

پاکستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد بعض مذہبی و سیاسی رہنماؤں کی خاموشی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ جو مذہبی شخصیات اور تنظیمیں تاجروں اور عوام سے بڑے پیمانے پر چندہ جمع کرتی ہیں، وہ ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی پر واضح مؤقف کیوں اختیار نہیں کر رہیں۔

گزشتہ ایک ماہ کے دوران بلوچستان سے اسلام آباد تک مختلف نوعیت کے حملوں نے سکیورٹی صورتحال پر تشویش میں اضافہ کیا ہے۔ ان واقعات کے بعد یہ مؤقف سامنے آ رہا ہے کہ ریاست کو نہ صرف عسکری بلکہ بیانیہ کی سطح پر بھی واضح اور متحد حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔

تنقید کرنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ چند مذہبی و سیاسی شخصیات کے سوا اکثریت کی خاموشی سوالیہ نشان ہے۔ بعض ناقدین نے الزام عائد کیا ہے کہ کچھ عناصر افغان طالبان کے مؤقف سے ہم آہنگ بیانات دے رہے ہیں یا شدت پسند گروہوں کو نرم انداز میں پیش کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے مختلف جماعتوں کے رہنماؤں پر بھی سوشل میڈیا پر تنقید کی جا رہی ہے، تاہم متعلقہ حلقوں کی جانب سے ان الزامات پر باضابطہ ردعمل محدود رہا ہے۔

دوسری جانب افغان طالبان کی قیادت کی جانب سے پاکستان سے متعلق سخت بیانات بھی سامنے آتے رہے ہیں، جس سے دوطرفہ تعلقات میں کشیدگی کا تاثر پیدا ہوا ہے۔ مبصرین کے مطابق ایسی صورتحال میں قومی یکجہتی اور واضح پالیسی ناگزیر ہے تاکہ دہشت گردی کے خلاف جاری کوششوں کو مؤثر بنایا جا سکے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دہشت گردی جیسے سنگین مسئلے پر ابہام یا تقسیم شدہ بیانیہ ریاستی مؤقف کو کمزور کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق ضروری ہے کہ تمام سیاسی و مذہبی قیادت کھل کر تشدد اور انتہاپسندی کی مذمت کرے اور قومی سلامتی کے معاملے پر مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور ریاست کسی بھی گروہ کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دے گی۔ تاہم عوامی حلقوں میں یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ بیانیے کی سطح پر بھی واضح اور دوٹوک موقف سامنے آنا چاہیے تاکہ کسی قسم کے ابہام کی گنجائش باقی نہ رہے۔

دیکھیے: آپریشن غضب للحق: پاکستان فضائیہ کی افغانستان میں کارروائیوں کا آغاز، ننگرہار میں اسلحہ ڈپو تباہ کر دیا

متعلقہ مضامین

پریس بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے کہا کہ “پاکستانیوں نے اس پورے عمل میں شاندار ثالثی کا کردار ادا کیا ہے اور ہم ان کی دوستی اور اس معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی کوششوں کو سراہتے ہیں”۔

April 15, 2026

افغان طالبان سرحد پار سے شدت پسندوں کو پاکستان میں داخل کرنے کی کوشش کر رہے تھے تاہم پاک فوج کی بروقت کارروائی کے باعث یہ کوشش ناکام بنا دی گئی۔ سکیورٹی حکام کے مطابق ناکامی کے بعد طالبان نے ردعمل میں شہری علاقوں کو نشانہ بنایا۔

April 15, 2026

گورو آریا نے اپنے بیان میں کہا کہ: “ہم اسرائیل کے حقیقی بھائی ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ اسرائیل لبنان پر 100 اور غزہ پر 50 بم گرائے”، جسے مبصرین نے کھلی جارحیت اور تشدد کی حمایت قرار دیا ہے۔

April 15, 2026

وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی مشترکہ سفارتی کوششوں کے باعث 11 اپریل کو اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات ممکن ہو سکے

April 15, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *