بھارت میں اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں، کے خلاف نفرت انگیز واقعات اور تقاریر میں تشویشناک اضافہ سامنے آیا ہے۔ امریکی ریسرچ گروپ انڈیا ہیٹ لیب کی جانب سے جاری کردہ 2025 کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں مذہبی شناخت کی بنیاد پر 1,318 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جن میں 98 فیصد متاثرین مسلمان تھے۔ رپورٹ کے مطابق یہ تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں 13 فیصد زیادہ اور 2023 کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہے۔
بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستیں سرِفہرست
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نفرت انگیز واقعات کی اکثریت ان ریاستوں میں پیش آئی جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) برسرِاقتدار ہے۔ دستاویزی شواہد کے مطابق مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف امتیازی سلوک اور اشتعال انگیز تقاریر کے متعدد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن پر بین الاقوامی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
انڈیا ہیٹ لیب کے مطابق 2025 کے دوران بھارت کی 21 ریاستوں اور ایک یونین ٹیریٹری میں نفرت پر مبنی واقعات اور تقاریر ریکارڈ ہوئیں، جو ملک میں بڑھتی ہوئی مذہبی کشیدگی کی عکاسی کرتی ہیں۔
شمال مشرقی علاقوں کے شہری بھی نشانے پر
حالیہ واقعات میں فروری 2026 کو اروناچل پردیش سے تعلق رکھنے والی تین خواتین کو دہلی کے علاقے مالویہ نگر میں مبینہ طور پر نسلی جملوں اور توہین آمیز رویے کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے قبل اکتوبر 2025 اور جنوری 2026 میں میگھالیہ اور اروناچل پردیش کے شہریوں کے ساتھ بھی اسی نوعیت کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔
مبصرین کے مطابق شمال مشرقی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف نسلی اور مذہبی امتیاز ایک بڑھتا ہوا مسئلہ بن چکا ہے۔
بے دخلیاں اور مکانات کی مسماری
رپورٹ میں مئی تا جون 2025 کے دوران مبینہ طور پر 1,500 سے زائد بنگالی بولنے والے مسلمانوں اور روہنگیا افراد کی بے دخلی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ آسام میں 2021 سے اب تک 50 ہزار سے زائد افراد کی بے دخلی رپورٹ ہوئی، جن میں اکثریت بنگالی بولنے والے مسلمانوں کی بتائی جاتی ہے۔ حالیہ کارروائیوں میں تقریباً 3,400 مکانات مسمار کیے جانے کی اطلاعات بھی شامل ہیں۔
حراست میں اموات پر خدشات
حراستی مراکز میں اموات کے حوالے سے بھی تشویش برقرار ہے۔ او ایم سی ٹی کے گلوبل ٹارچر انڈیکس کے مطابق 2024 میں 2,739 حراستی اموات رپورٹ ہوئیں، جنہوں نے انسانی حقوق کی صورتحال پر مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
امریکہ کی سفارش
بڑھتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے 2025 میں بھارت کو “خاص تشویش والا ملک” قرار دینے کی سفارش کی، تاکہ اقلیتوں کے خلاف مبینہ نفرت انگیزی اور تشدد کو روکا جا سکے۔
بین الاقوامی ردعمل
بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیموں نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقلیتوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرے اور نفرت انگیز تقاریر و تشدد کے واقعات کی شفاف تحقیقات کو یقینی بنائے۔ بھارتی حکام کی جانب سے ان الزامات پر باضابطہ مؤقف سامنے آنا باقی ہے، تاہم حکومت ماضی میں ایسے الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے۔
مبصرین کے مطابق یہ رپورٹ نہ صرف بھارت میں اقلیتوں کی صورتحال پر روشنی ڈالتی ہے بلکہ خطے میں مذہبی ہم آہنگی اور انسانی حقوق کے مستقبل سے متعلق اہم سوالات بھی اٹھاتی ہے۔