تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سربراہ مفتی نور ولی محسود نے اپنے جنگجوؤں کو حکومتِ پاکستان کے خلاف باقاعدہ اور منظم آپریشنز شروع کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ پیغام تنظیم کے میڈیا ونگ کے ذریعے مختلف کمانڈرز تک پہنچایا گیا، جس میں کارروائیوں میں شدت لانے پر زور دیا گیا ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاک افغان سرحد پر کشیدگی عروج پر ہے اور سکیورٹی فورسز متعدد محاذوں پر متحرک ہیں۔ سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ٹی ٹی پی کی جانب سے حملوں میں اضافہ ہوتا ہے تو ملک کے داخلی امن و امان اور سرکاری تنصیبات کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
ادھر کالعدم جماعت الاحرار اور بعض دیگر شدت پسند گروہوں کی جانب سے بھی مبینہ طور پر اسی نوعیت کے احکامات جاری کیے گئے ہیں، جس سے خطرات میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی ادارے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور افغان طالبان (ٹی ٹی اے) کے درمیان تعلق اب محض الزام یا قیاس آرائی نہیں رہا بلکہ بیانات اور زمینی حقائق اسے واضح بنا رہے ہیں۔ جب ایک فریق کے خلاف کارروائی ہوتی ہے اور دوسرا فریق کھل کر اس کے حق میں بیانات اور صف بندی کرتا ہے تو اس سے عملی اور نظریاتی ہم آہنگی نمایاں ہو جاتی ہے۔ نور ولی محسود، حافظ گل بہادر گروپ اور اتحاد المجاہدین کی جانب سے “تحفظِ امارتِ اسلامی” کے نام پر پاکستان کے خلاف جنگ کا اعلان اس تعلق کو مزید واضح کرتا ہے، جو محض آزاد عسکریت نہیں بلکہ ایک وسیع تر نظریاتی وابستگی کی نشاندہی کرتا ہے۔
2021 کے بعد پاکستان کے اندر ٹی ٹی پی حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جن میں سے متعدد کے تانے بانے مشرقی افغان صوبوں ننگرہار، پکتیکا اور خوست سے جوڑے جاتے ہیں۔ یہ علاقے جغرافیائی طور پر سرحدی پٹی میں واقع ہیں اور مبصرین کے مطابق بطور آپریشنل گہرائی استعمال ہو سکتے ہیں۔ روسی اور اقوام متحدہ سے منسلک بعض اندازوں میں بھی ہزاروں ٹی ٹی پی جنگجوؤں کی موجودگی جنوب مشرقی و مشرقی افغانستان میں بتائی گئی ہے، جس سے سرحد پار کارروائیوں کی بحث کو مزید تقویت ملتی ہے۔