وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن میں میڈیا کو بتایا کہ سعودی عرب آئندہ ہفتے پاکستان کو 3 ارب ڈالر کے اضافی ڈپازٹس فراہم کرے گا، جبکہ سابقہ 5 ارب ڈالر کے ڈپازٹس کو بھی طویل مدت کے لیے رول اوور کر دیا گیا ہے

April 15, 2026

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے ویٹو پاور کے خاتمے یا اس پر سخت پابندیوں کا مطالبہ کرتے ہوئے سلامتی کونسل میں نئے مستقل اراکین کی شمولیت کو مسترد کر دیا ہے

April 15, 2026

حکام کے مطابق اجلاس میں ہونے والی مشاورت کو آئندہ وزرائے خارجہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا، جو 17 اپریل کو ترکیے کے شہر انطالیہ میں انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر منعقد ہوگا۔

April 14, 2026

حکام کے مطابق یہ منشیات ایک ٹرانزٹ گاڑی کے ذریعے افغانستان سے قزاقستان منتقل کی جا رہی تھیں۔ گمرک پر اسکیننگ اور تفصیلی تلاشی کے دوران دیگوں کے اندر بنائے گئے خفیہ خانوں سے چرس برآمد کی گئی۔

April 14, 2026

ٹرمپ نے گفتگو کے دوران پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ وہ مذاکرات کے حوالے سے “بہترین کام” کر رہے ہیں۔ ایران پہلے ہی پاکستان کو مذاکرات کے لئے فیورٹ قرار دے چکا ہے۔

April 14, 2026

ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار کا حکومتِ پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے خلاف باقاعدہ آپریشنز شروع کرنے کا اعلان

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاک افغان سرحد پر کشیدگی عروج پر ہے اور سکیورٹی فورسز متعدد محاذوں پر متحرک ہیں۔ سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ٹی ٹی پی کی جانب سے حملوں میں اضافہ ہوتا ہے تو ملک کے داخلی امن و امان اور سرکاری تنصیبات کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار کا حکومتِ پاکستان کے خلاف باقاعدہ آپریشنز شروع کرنے کا اعلان

کالعدم جماعت الاحرار اور بعض دیگر شدت پسند گروہوں کی جانب سے بھی مبینہ طور پر اسی نوعیت کے احکامات جاری کیے گئے ہیں، جس سے خطرات میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

February 28, 2026

تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سربراہ مفتی نور ولی محسود نے اپنے جنگجوؤں کو حکومتِ پاکستان کے خلاف باقاعدہ اور منظم آپریشنز شروع کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ پیغام تنظیم کے میڈیا ونگ کے ذریعے مختلف کمانڈرز تک پہنچایا گیا، جس میں کارروائیوں میں شدت لانے پر زور دیا گیا ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاک افغان سرحد پر کشیدگی عروج پر ہے اور سکیورٹی فورسز متعدد محاذوں پر متحرک ہیں۔ سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ٹی ٹی پی کی جانب سے حملوں میں اضافہ ہوتا ہے تو ملک کے داخلی امن و امان اور سرکاری تنصیبات کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

ادھر کالعدم جماعت الاحرار اور بعض دیگر شدت پسند گروہوں کی جانب سے بھی مبینہ طور پر اسی نوعیت کے احکامات جاری کیے گئے ہیں، جس سے خطرات میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی ادارے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور افغان طالبان (ٹی ٹی اے) کے درمیان تعلق اب محض الزام یا قیاس آرائی نہیں رہا بلکہ بیانات اور زمینی حقائق اسے واضح بنا رہے ہیں۔ جب ایک فریق کے خلاف کارروائی ہوتی ہے اور دوسرا فریق کھل کر اس کے حق میں بیانات اور صف بندی کرتا ہے تو اس سے عملی اور نظریاتی ہم آہنگی نمایاں ہو جاتی ہے۔ نور ولی محسود، حافظ گل بہادر گروپ اور اتحاد المجاہدین کی جانب سے “تحفظِ امارتِ اسلامی” کے نام پر پاکستان کے خلاف جنگ کا اعلان اس تعلق کو مزید واضح کرتا ہے، جو محض آزاد عسکریت نہیں بلکہ ایک وسیع تر نظریاتی وابستگی کی نشاندہی کرتا ہے۔

2021 کے بعد پاکستان کے اندر ٹی ٹی پی حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جن میں سے متعدد کے تانے بانے مشرقی افغان صوبوں ننگرہار، پکتیکا اور خوست سے جوڑے جاتے ہیں۔ یہ علاقے جغرافیائی طور پر سرحدی پٹی میں واقع ہیں اور مبصرین کے مطابق بطور آپریشنل گہرائی استعمال ہو سکتے ہیں۔ روسی اور اقوام متحدہ سے منسلک بعض اندازوں میں بھی ہزاروں ٹی ٹی پی جنگجوؤں کی موجودگی جنوب مشرقی و مشرقی افغانستان میں بتائی گئی ہے، جس سے سرحد پار کارروائیوں کی بحث کو مزید تقویت ملتی ہے۔

دیکھیے: اب ہماری تمہاری کھلی جنگ ہے؛ خواجہ آصف کا افغان طالبان رجیم کو سخت پیغام

متعلقہ مضامین

وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن میں میڈیا کو بتایا کہ سعودی عرب آئندہ ہفتے پاکستان کو 3 ارب ڈالر کے اضافی ڈپازٹس فراہم کرے گا، جبکہ سابقہ 5 ارب ڈالر کے ڈپازٹس کو بھی طویل مدت کے لیے رول اوور کر دیا گیا ہے

April 15, 2026

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے ویٹو پاور کے خاتمے یا اس پر سخت پابندیوں کا مطالبہ کرتے ہوئے سلامتی کونسل میں نئے مستقل اراکین کی شمولیت کو مسترد کر دیا ہے

April 15, 2026

حکام کے مطابق اجلاس میں ہونے والی مشاورت کو آئندہ وزرائے خارجہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا، جو 17 اپریل کو ترکیے کے شہر انطالیہ میں انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر منعقد ہوگا۔

April 14, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *