مزید برآں امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای اور ان کی اہلیہ بھی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

March 1, 2026

دونوں جانب سے جانی نقصان کی مختلف دعوے سامنے آئے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ سیکڑوں طالبان رجیم کے عسکری اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں، جبکہ افغان طالبان نے بھی پاکستانی فوج کی جانب سے شہری علاقوں پر فضائی حملوں اور چوکیوں پر حملوں کا الزام لگایا ہے۔

March 1, 2026

رائٹرز نے اسرائیلی حکام کی جانب سے اس دعوے کو رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای بھی اب اس دنیا میں نہیں رہے اور ان کی لاش بھی مل گئی ہے۔ ایرانی حکام نے اس خبر پر کہا ہے کہ وہ اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ اعلیٰ قیادت کے حوالے سے کسی خبر کی تصدیق کر سکیں۔

March 1, 2026

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ 1979 سے 9/11 تک کے عرصے میں افغانستان کے مختلف دھڑوں کے درمیان خانہ جنگی جاری رہی، جس میں پاکستان نے بارہا ثالثی کا کردار ادا کیا اور فریقین کو صلح کے لیے آمادہ کیا۔ اُن کے مطابق پاکستان نے تین نسلوں تک افغان قیادت اور عوام کی مہمان نوازی کی، مگر اس کا صلہ یہ ملا کہ پاکستان مخالف عناصر کو افغان سرزمین پر پناہ دی گئی۔

February 28, 2026

کیا افغانستان واقعی کبھی فتح نہیں ہوا؟ ایچ ٹی این کی اس خصوصی رپورٹ میں سکندرِ اعظم، چنگیز خان اور بابر سمیت ان تمام فاتحین کا ذکر ہے جنہوں نے اس خطے کو مسخر کیا

February 28, 2026

حکومتِ افغانستان نے پاکستان کے انتباہ کے بعد شہریوں کو پرسکون رہنے، غیر ضروری سفر سے بچنے اور سیکیورٹی حکام سے تعاون کی ہدایت جاری کر دی ہے

February 28, 2026

اسرائیلی افواج نے ایران میں جاں بحق ہونے والی ایرانی اعلیٰ قیادت کی تفصیلات جاری کر دیں

مزید برآں امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای اور ان کی اہلیہ بھی جاں بحق ہو چکے ہیں۔
اسرائیلی افواج نے ایران میں جاں بحق ہونے والی اعلیٰ قیادت کی تفصیلات جاری کر دیں

اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے دعویٰ کیا ہے کہ حملوں میں ایران کی اعلیٰ عسکری اور سیکیورٹی قیادت کو نشانہ بنایا گیا، جن میں کئی اہم شخصیات ہلاک ہوئیں۔

March 1, 2026

اسرائیل کی جانب سے ایران پر حالیہ فضائی حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔ اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے دعویٰ کیا ہے کہ حملوں میں ایران کی اعلیٰ عسکری اور سیکیورٹی قیادت کو نشانہ بنایا گیا، جن میں کئی اہم شخصیات جاں بحق ہوئیں۔

آئی ڈی ایف کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں ایران کے وزیر دفاع عزیز نصیر زادہ، سپریم لیڈر کے ملٹری بیورو کے سربراہ محمد شیرازی، سپریم لیڈر کے سیکیورٹی امور کے مشیر اور دفاعی کونسل کے سیکریٹری علی شمخانی، پاسدارانِ انقلاب کی گراؤنڈ فورسز کے کمانڈر محمد پاکپور شامل ہیں۔

اس کے علاوہ دفاعی تحقیقاتی ادارے کے چیئرمین حسین جبل عاملیان، اسی ادارے کے سابق چیئرمین رضا مظفری نیا اور خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر کے انٹیلی جنس سربراہ صالح اسدی کی ہلاکت کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔

مزید برآں امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای اور ان کی اہلیہ بھی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

دونوں جانب سے جانی نقصان کی مختلف دعوے سامنے آئے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ سیکڑوں طالبان رجیم کے عسکری اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں، جبکہ افغان طالبان نے بھی پاکستانی فوج کی جانب سے شہری علاقوں پر فضائی حملوں اور چوکیوں پر حملوں کا الزام لگایا ہے۔

March 1, 2026

رائٹرز نے اسرائیلی حکام کی جانب سے اس دعوے کو رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای بھی اب اس دنیا میں نہیں رہے اور ان کی لاش بھی مل گئی ہے۔ ایرانی حکام نے اس خبر پر کہا ہے کہ وہ اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ اعلیٰ قیادت کے حوالے سے کسی خبر کی تصدیق کر سکیں۔

March 1, 2026

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ 1979 سے 9/11 تک کے عرصے میں افغانستان کے مختلف دھڑوں کے درمیان خانہ جنگی جاری رہی، جس میں پاکستان نے بارہا ثالثی کا کردار ادا کیا اور فریقین کو صلح کے لیے آمادہ کیا۔ اُن کے مطابق پاکستان نے تین نسلوں تک افغان قیادت اور عوام کی مہمان نوازی کی، مگر اس کا صلہ یہ ملا کہ پاکستان مخالف عناصر کو افغان سرزمین پر پناہ دی گئی۔

February 28, 2026

کیا افغانستان واقعی کبھی فتح نہیں ہوا؟ ایچ ٹی این کی اس خصوصی رپورٹ میں سکندرِ اعظم، چنگیز خان اور بابر سمیت ان تمام فاتحین کا ذکر ہے جنہوں نے اس خطے کو مسخر کیا

February 28, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *